کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 26

(1) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ حکم شرعی نہیں‘ بلکہ تعزیری تھا۔ اگر یہ حکم شرعی ہوتا تو آپ رضی اللہ عنہ کو اسے ابتدائے خلافت سے جاری فرمانا چاہیے تھا۔ (2) آپ رضی اللہ عنہ نے کسی شرعی حکم کو بدلا نہیں‘ بلکہ یہ حکم ایسے خطاکار لوگوں کے لیے نافذ کیا جو بیک وقت تین طلاقیں دیتے تھے۔ رجوع کے سلسلہ میں شریعت نے جو رعایت دے رکھی تھی وہ آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے سلب کر لی۔ گویا یہ قانون وقتی تھا جو سزا کے طور پر نافذ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد موجودہ دور کے چند ’’بزرگان دین‘‘ کے تبصرے اور تحریریں بھی ملاحظہ فرما لیجئے: (3) سب سے پہلے تو جناب پیر کرم شاہ صاحب ازہری مدیر ماہنامہ ’’ضیائے حرم‘‘ رکن اسلامی نظریاتی کونسل اور رکن رویت ہلال کمیٹی کا نام ہی پیش کرنا مناسب ہے، جن کا اقتباس اوپر درج کیا جا چکا ہے۔ اس میں آپ نے برملا اعتراف کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ سیاسی نوعیت کا تھا اور سزا کے طور پر تھا۔ (4) مولانا عبدالحلیم صاحب قاسمی مہتمم مدرسہ جامعہ حنفیہ قاسمیہ لاہور اور صدر علمائے احناف پاکستان فرماتے ہیں۔ ’’حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سیاستاً ایک مجلس کی تین طلاق کو تین تسلیم کر لیا تھا۔ یہ آپ رضی اللہ عنہ کی سیاست تھی‘ جس میں تبدیلی کا امکان ہے۔ چنانچہ اکثر جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین نے اس معاملہ میں آپ رضی اللہ عنہ سے اختلاف فرمایا ہے جو کتب احادیث میں مع دلائل موجود ہے‘‘ (ایک مجلس کی تین طلاق علمائے احناف کی نظر میں ‘ ص۱۵) (5) نومبر ۱۹۷۲ء میں احمد آباد (گجرات، کاٹھیاواڑ) میں تطلیق ثلاثہ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں جناب مولانا شمس پیرزادہ امیر جماعت اسلامی نے ایک مقالہ پڑھا۔ اس مقالہ کے بعض مقامات کا جناب عامر عثمانی صاحب، مدیر ماہنامہ ’’تجلی‘‘ دیوبند نے تعاقب کیا۔ ان کا درج ذیل سوال و جواب ملاحظہ ہو: عامر صاحب فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ حاکم وقت تھے نہ کہ قاضی۔ نیز یہ کہ ان کا

  • فونٹ سائز:

    ب ب