کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 28

کہ ایک مجلس کی تین طلاق کو تین ہی قرار دیتے ہیں اور اس حد تک تو یہ سب حضرات متفق ہیں مگر اس فیصلہ کی شرعی حیثیت کی تعیین میں پھر بہت سے اختلافات رونما ہوئے‘ مثلاً: کچھ حضرات تو تطلیق ثلاثہ اور ان کے وقوع کو ایسے ہی سنت اور جائز سمجھتے ہیں جیسے کہ متفرق طور پر طلاق دینے کو، جیسا کہ خود قاری عبدالحفیظ صاحب نے رسالہ ’’منہاج‘‘ مذکور کے ص ۳۰۴ پر تحریر فرمایا ہے۔ اس توجیہ پر درج ذیل اعتراض وارد ہوتے ہیں: (۱) اگر بیک وقت تین طلاق دینا بھی سنت اور جائز ہے، تو علمائے احناف اور اسی طرح دوسرے تمام فقہاء اسے بدعی طلاق کیوں قرار دیتے ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک چیز بیک وقت سنت بھی ہو اور بدعت بھی؟ (ب) بیک وقت تین طلاق دینے والے کو تمام علماء و فقہاء گناہ کبیرہ کا مرتکب سمجھتے ہیں۔ تب سوال یہ ہے کہ کسی سنت کے عامل یا کم از کم جائز کام کرنے والے کو گناہ کبیرہ کا مرتکب قرار دیا جا سکتا ہے؟ (ج) اگر ایک مجلس کی تین طلاق بھی سنت اور جائز ہیں،تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں کیا چیز نافذ فرمائی تھی۔ جو چیز پہلے ہی موجود اور نافذ ہو اسے نافذ فرمانے کا مطلب؟ (۲) دوسرا فریق اس مسئلہ کو سنت تو نہیں ‘ البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا درست اجتہاد تسلیم کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آیت ’’اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ‘‘ کا ظاہری مفہوم اگرچہ وقفوں سے طلاق دینا ہی ہے تاہم یکبارگی تین طلاق دینے اور ان کے واقع ہونے کی بھی گنجائش موجود ہے۔ اس فریق کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلہ پر امت کا اجماع ہو گیا تھا‘ لہٰذا اب مزید اجتہاد و اختلاف کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہی وہ امور ہیں جن کا ہم آگے چل کر نہایت تفصیل سے جائزہ پیش کر رہے ہیں کہ ان حضرات کا یہ نظریہ اور یہ دعویٰ کہاں تک درست ہے؟ (۳) تیسرا گروہ آپ رضی اللہ عنہ کے اس فیصلہ کو سیاسی‘ تعزیری اور وقتی سمجھتا ہے جسے آج کی زبان میں آرڈیننس کہتے ہیں یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حالات کے تقاضا کے تحت ایک سر اٹھانے والی برائی کی روک تھام کیلئے ایسے لوگوں سے اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی سہولت کو بطور تعزیر چھین لیا تھااور اکثر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین نے اس سلسلہ میں آپ رضی اللہ عنہ سے تعاون کے طور پر آپ رضی اللہ عنہ کے اس فیصلہ کو قبول کر لیا۔ جیسا کہ ابن رشد قرطبی اپنی کتاب ’’بدایہ المجتہد‘‘ میں رقم طراز ہیں:

  • فونٹ سائز:

    ب ب