کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 32
مندرجہ بالا اقتباس میں قاری صاحب موصوف کی دلیل کا سارا انحصار اس بات پر ہے کہ حرف ’’فاء‘‘ ’’تعقیب مع الوصل‘‘کیلئے ہی آتا ہے۔ درج ذیل آیات پر غور فرما کر بتائیے کہ یہاں ’’فاء ‘‘ کا حرف ’’تعقیب مع الوصل‘‘ کیلئے ہی استعمال ہوا ہے؟ (۱)[قَلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحبِبْکُمْ اﷲُ ۔ الاٰیة[ (ال عمران:۳۱) (۲)[وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ۔ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا[ (الم نشرح:۴‘۵) (۳)[ فَلَمَّا جَآءَ ہُمْ مَا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہٖ فَلَعْنَةُ اﷲِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ [ (البقرہ: ۸۹) قاری صاحب کے بیان میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ حرف ’’فاء ‘‘ کے چھ مختلف استعمالات میں سے ایک استعمال بطور ’’تعقیب مع الوصل‘‘ بھی ہے اور وہ چھ استعمال یہ ہیں: (۱) ترتیب (۲) تعقیب مع الوصل (۳) سبب (۴)شرط (۵) رابطہ (۶) زائدہ۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ آیت زیر بحث میں حرف ’’فاء‘‘ تعقیب مع الوصل کے طور پر ہی استعمال ہوا ہے یا کسی اور غرض کے لیے ؟ اس مقصد کے لیے ہم اس سے پہلی آیت کی طرف رجوع کرتے ہیں‘ جس کی طرف قاری صاحب نے بھی توجہ دلائی ہے اور وہ آیت یوں ہے۔ [اَلطَلَاقُ مَرَّتٰنِ فَإِمْسَاکُٗ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحُٗ بِاِحْسَانٍ[ طلاق دوبار ہے۔ پھر یا تو ان کو شائستہ طور پر اپنے نکاح میں رکھا جائے یا بھلائی کے ساتھ رخصت کر دیا جائے… [فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلَاتَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْدُ حَتیّٰ تَنْکِحَ زَوجاً غَیْرَہٗ ۔ الاٰیة] (البقرہ: ۲۲۹‘۲۳۰) پھر اگر خاوند (بیوی کو) تیسری بار طلاق دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کر لے پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی۔ اس وضاحت کے بعد خلع کے احکام ذکر ہوئے کہتے ہیں: اب دیکھئے آیت مذکورہ میں ’’فَاِمْسَاکُ بِمَعْرُوف‘‘ کے الفاظ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ تین تو درکنار‘ دو طلاقیں بھی بیک وقت دینا اس آیت کے مفہوم کے صریح خلاف ہے ’’فَاِمْسَاکُ بِمَعرُوْفٍ‘‘ کا تعلق پہلی طلاق کے بعد بھی ہے اور دوسری کے بعد بھی۔ اندریں صورت جو تیسری طلاق کے وقت لفظ ’’فائ‘‘ استعمال ہوا ہے وہ تعقیب مع الوصل کے لیے کیونکر ہو سکتا ہے؟ بالخصوص اس صورت میں کہ درمیان میں خلع کے احکام بھی بیان کیے جا رہے ہیں؟ لہٰذا ہمارے خیال میں اگر ’’فائ‘‘ کو ’’تعقیب مع الوصل‘‘ کے لیے قرار دینا ہی ہے تو کیوں نہ ’’فَاِمْسَاکُ‘ کی ’’فائ‘‘ کو ایسا قرار دیا جائے جو ’’اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ‘‘ کے ساتھ ہی واقع ہے۔ اتنی دور جا کر ’’فَاِنْ طَلَّقَہَا‘‘ کی ’’فاء ‘ کو ’’تعقیب مع الوصل‘‘ قرار دینے کی کوئی تک نظر نہیں آتی۔