کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 42
بِاِحْسَانٍ‘‘ کے الفاظ اس بات کی بین دلیل ہیں کہ طلاقیں متفرق طور پر ہوں اور ان کے درمیان وقفہ بھی ضروری ہے۔ مقام حیرت ہے کہ علمائے احناف کو جب شوافع کی مخالفت مقصود ہوتی ہے (جو بیک وقت تین طلاق کو سنت کے خلاف نہیں سمجھتے)تو یہ حضرات تین طلاقوں میں وقفہ کو ‘ قرآن کی صراحت کے مطابق ضروری ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر دیتے ہیں اور یکبارگی تین طلاق کو حرام اور کار معصیت قرار دیتے ہیں۔ مگر جب ان کے وقوع کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو ’’فاء تعقیب‘‘ اور ’’ثم‘‘ کے استعمال کا فرق بتا کر بیک وقت تین طلاق کی حوصلہ افزائی بھی فرماتے جاتے ہیں۔ بہر حال جن نامور علمائے احناف نے طلاقوں کے درمیان وقفہ کو ضروری قرار دیا ہے، ان میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں: (۱) ابو بکر جصاص (احکام القرآن ج۱‘ ص۳۸۰) زیر آیت ’’الطلاق مرتٰن‘‘ بحوالہ مقالات ص۱۰۷) (۲) زمحشری (تفسیر کشاف زیر آیت مذکور) (۳) شیخ محمد تھانوی استاد مولانا اشرف علی تھانوی (حاشیہ نسائی ج۲ ص۲۹‘ بحوالہ مقالات ص۸۷‘ ۸۔۱) (۴) مولانا سندھی (حوالہ ایضاً) (۵) ابو البرکات عبداﷲ احمد سلفی (مدارک التنزیل ج۲ ص۱۷۷) بحوالہ مقالات ص۸۸) (۶) مولانا عبدالحق صاحب (ایضاً) (۷) مولانا علامہ انور صاحب کاشمیری (فیض الباری‘ ج۴ص۳۸) (۸) قاضی ثناء اﷲ پانی پتی (تفسیر مظہری زیر آیت مذکور) (دوسری دلیل) آیت مذکورہ کا شان نزول: اگر ہم آیت محولہ بالا کے پس منظر یا شان نزول پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ دور جاہلیت میں طلاق کی تعداد کا کچھ شمار ہی نہ تھا اور ہر طلاق کے بعد مرد کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل تھا۔ اس طرح مرد حضرات مظلوم عورت کو خاصا پریشان اور تنگ کرتے رہتے تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعہ مردوں کے حق رجوع کو دو تک محدود کر دیا‘ تاہم بالکل ختم نہیں کیا۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ طلاقوں کے درمیان وقفہ ہو۔ شان