کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 44
[فَلَا تَعْضُلُوْہُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ ۔ الاٰیة] (البقرہ:۲۳۲) عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے مطلقہ عورت کی عدت گزرنے کے بعد بھی اپنے پہلے خاوند سے نئے نکاح کے جواز کی صورت پیش فرمائی ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ تین طلاقیں اکٹھی نہ دی گئی ہوں۔ یعنی تیسری آخری طلاق سے پہلے ایک یا دو رجعی طلاق کے بعد، یا پھر اس صورت میں کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا گیا ہو۔ چوتھی دلیل: [وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْسَرِّحُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ۔](البقرہ:۲۳۱) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور اس کی عدت پوری ہونے لگے تو یا تو انہیں بھلائی کے ساتھ اپنے پاس رکھو یا شائستہ طور پر رخصت کردو۔ اس آیت سے بھی یک مجلسی تین طلاق دینا‘ پھر انہیں تین ہی شمار کر لینا منشائے الٰہی کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ پانچویں دلیل: [یٰاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اﷲَ رَبَّکُمْ لَا تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ وَ تِلْکَ حُدُوْدُ اﷲِ وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُوْدَ اﷲِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اﷲَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا] (الطلاق:۱) ’اے نبی صلی اللہ وسلم (مسلمانوں سے کہہ دیجئے) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کی عدت کے لیے طلاق دو اور عدت کا شمار کرتے رہو ………… تجھے کیا معلوم شاید اﷲ اس کے بعد (بہتری یعنی رجوع کی) سبیل پیدا کر دے۔ اب دیکھئے اگر عورت کو ایک دفعہ تین طلاق دے کر پھر انہیں تین ہی شمار کر لیا جائے تو بہتری یا رجوع کا کوئی موقع باقی رہ جاتا ہے؟ ’’لَعَلَّ اﷲَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا‘‘ کے الفاظ اس بات کے متقاضی ہیں کہ اگر طلاق دی جائے تو رجعی ہی ہونی چاہئے۔ عدت کا شمار بھی اسی لحاظ سے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔