کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 49
جاتا تھا۔لیکن ابوداؤد والی حدیث ضعیف ہے۔ امام نووی شارح صحیح مسلم نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ کیونکہ طاؤس سے روایت کرنے والے مجہول لوگ ہیں (نووی شرح مسلم ص۱۴۷۸) تاہم اگر اسے صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو ایک عام حکم کو خاص کے تحت کیسے لایا جاسکتا ہے؟ (تیسرا اعتراض) اس حدیث میں کوئی حکم نہیں بلکہ یہ محض اطلاع ہے اور وہ اطلاع یا خبر یہ ہے کہ دور فاروقی تک لوگ صرف ایک ہی طلاق پر اکتفا کرتے تھے اور اکٹھی تین طلاقیں دینے سے پرہیز کیا کرتے تھے۔ (منہاج ایضاً) جو بات کی خدا کی قسم لا جواب کی یہ اعتراض ‘ تاویل یا جواب دراصل تاویل و تعبیر نہیں بلکہ صحیح معنوں میں تحریف ہے جس میں حقیقت کو یکسر الٹا کر یہ توجیہ پیش کی گئی ہے۔ حدیث کے مطابق تو واقعہ یہ ہے ‘ ابو الصہباء حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں کہ ’’آپ کو معلوم ہے کہ دور نبوی‘ صدیقی اور فاروقی کے ابتدائی دو سالوں تک ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک بنا دیا جاتا تھا؟‘‘ تو اس سوال کا جواب حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ اثبات میں دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ہاں میںجانتا ہو‘‘ اب سوال یہ ہے کہ اگر تین طلاقیں دی ہی نہیں جاتی تھیں تو ایک کس چیز کو بنایا جاتا تھا؟ قاری صاحب محترم کے پیش کردہ تین جوابات ختم ہوئے۔ اب مزید ’’جوابات‘‘ کی تفصیل دیکھئے۔ (چوتھا اعتراض) تین طلاقیں کہنے سے مراد محض ایک کی تاکید تھی: کہا جاتا ہے یہ حدیث الفاظ کی تکرار کے سلسلہ میں ہے۔ جیسے کوئی یوں کہے ’’اَنْتِ طَلقٌ‘اَنتِ طَلِقٌ‘ اَنْتِ طَلِقٌ‘‘ تو صدراول میں دلوں کی سلامتی کے باعث لوگوں کا یہ عذر قبول کر لیا جاتا تھا کہ ان کا ارادہ تو حقیقتاً صرف ایک طلاق کا تھا‘ تین بار الفاظ محض تاکید کے لیے کہے گئے تھے۔ مگر بعد کے دور میں فریب دہی زیادہ ہو گئی‘ جس کے باعث تاکید کا