کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 52
(۲) تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین کا عمل اس حدیث کے خلاف نہیں۔ بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک ہی واقع ہونے کے قائل رہے۔ بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین حالات کا لحاظ رکھ کر دونوں طرح کے فتوے دیا کرتے تھے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ انہی میں سے تھے (تفصیل آگے آرہی ہے) آپ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ جو ابوداؤد میں مذکور ہے‘ وہ یہی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ یکبارگی تین طلاق کو ایک ہی تصور فرماتے تھے۔ فتویٰ کی عبارت یوں ہے: اِذْقَالَ اَنْتِ طَلِقٌ ثَلَاثًا بِفَمٍ وَاحِدٍ فَہِیَ وَاحِدُ (ابوداؤد ‘ کتاب الطلاق) جب کسی نے (اپنی بیوی سے) ایک ہی وقت میں تین طلاق کہا تو یہ ایک ہی ہو گی۔ (آٹھواں اعتراض) یہ حدیث بخاری میں کیوں مذکور نہیں؟ کہا جاتا ہے اگر یہ حدیث فی الواقع قابل اعتماد ہوتی تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی اسے اپنی بخاری میں درج فرماتے۔ جواب: (۱) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ انہوںنے تمام صحیح احادیث کو اپنی کتاب میں در ج کر دیا ہے۔ لہٰذا یہ اعتراض تو محض ڈوبتے کو تنکے کا سہارا دینے والی بات ہے۔ (۲) امت مسلمہ نے بخاری و مسلم دونوں کتابوں کو صحیح تسلیم کیا ہے۔ اسی لیے انہیں صحیحین کا نام دیا گیا ہے‘ چنانچہ یہ اعتراض محض برائے اعتراض ہے۔ (۳) اگر معترض حضرات کے نزدیک صحیح مسلم‘ صحیح بخاری کے درجہ میں کمتر درجہ کی کتاب ہے تو کیا اس مسئلہ کی طرح آپ دیگر مفردات ’’مسلم‘‘ کو بھی ایسے اعتراض کا نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں؟ (نواں اعتراض) سنت کی مخالفت اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ : اعتراض یہ ہے کہ ’’اگر اس حدیث کو درست تسلیم کر لیا جائے تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سنت کی مخالفت کی۔‘‘