کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 53
جواب: اگر آپ صلی اللہ وسلم کے اس فیصلے کو شرعی اور دائمی کی بجائے تعزیری اور عارضی تسلیم کر لیا جائے تو یہ اعتراض از خود ختم ہو جاتا ہے اور حقیقت ہے بھی یہی‘ ہاں یہ مشکل تو ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے اماموں کے قیاس کو درست قرار دینے کی خاطر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کو شرعی اور دائمی ثابت کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ خلیفہ وقت کو مصالح امت کی خاطر شریعت کی رعایتوں کو سلب کرنا یا از خود کوئی تعزیر تجویز کرنے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں‘ جن کے تحت وہ تعزیری یا عارضی قسم کے قوانین نافذ کر سکتا ہے۔ انہی اختیارات کو بروئے کار لا کر آپ رضی اللہ عنہ نے نہ صرف یہ کہ یکبارگی تین طلاق کے نفاذ کا قانون نافذ کیا، بلکہ ایسے طلاق دہندہ کو آپ رضی اللہ عنہ سزا بھی دیتے تھے۔ انہی اختیارات کی رو سے آپ رضی اللہ عنہ شراب کی دکانوں اور شراب کشید کرنے والی بھٹیوں کو آگ بھی لگا دیا کرتے تھے۔ (دسواں اعتراض) ’’اجماع امت؟‘‘: یہ دراصل اعتراض یا جواب یا تاویل و تعبیر نہیں‘ بلکہ ایک اپیل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلہ کے بعد اس پر امت کا اجماع ہو گیا تھا۔ لہٰذا اب کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ اس کے خلاف عمل کرے۔ جواب: اس مزعومہ ’’اجماع‘‘ کا ذکر ہمارے قاری عبدالحفیظ صاحب نے بھی فرمایا ہے‘ جس کی حقیقت ہم آگے چل کر نہایت تفصیل سے پیش کر رہے ہیں۔ حدیث رکانہ (مسند احمد) اور اس پر اعتراضات: مخالفین تطلیق ثلاثہ کی طرف سے مسلم کی تین احادیث کے بعد چوتھی حدیث ’’حدیث رکانہ‘‘ پیش کی جاتی ہے۔ جس کے متعلق امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد صحیح ہیں: حدثنا محمد بن ابراہیم، حدثنا ابی عن محمد بن اسحق حدثنی داوود الحصین عن عکرمة مولیٰ ابن عباس عن ابن عباس قال طلق رکانة بن عبدیزید اخوبنی مطلب امرأتہ ثلاثا فی مجلس واحد فحزن علیہا حزنا شدیدا فقال فسألہ رسول اﷲ صلی اللہ وسلم کیف طلقتہا؟ قال طلقتہا ثلاثا قال فی مجلس واحد؟ قال نعم قال انما تلک واحدة فارجعہا ان شئت. قال فرجعہا فکان ابن عباس یرٰی انما الطلاق عندکل طہر (مسند احمد‘ ج۱‘ ص۲۶۵) عبداﷲ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رکانہ رضی اللہ عنہ بن عبدیزید بنو مطلب کے بھائی نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں