کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 57
(۳) اگر ابوداؤد اتنی صحیح کتاب ہے تو پھر آپ کو ابوداؤد کی یہ حدیث بھی تسلیم کر لینا چائے جس میں مذکور ہے کہ ابورکانہ نے ام رکانہ کو تین طلاقیں دیں اور نئی بیوی سے نکاح کر لیا۔ ام رکانہ نے رسول اﷲ صلی اللہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ وسلم نے ابورکانہ کو بلا کر کہا کہ ’’ام رکانہ سے رجوع کرلو‘‘۔ ابو رکانہ نے کہا ’’میں تو تین طلاق دے چکا ہوں‘‘ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا ’’میںجانتا ہوں‘ رجوع کر لو۔‘‘ (ابوداؤد ‘ کتاب الطلاق باب نسخ المراجعۃ) اگر قاری صاحب ابوداؤد کی یہ حدیث بھی ضعیف‘ مجہول اور موضوع سے پاک تسلیم فرما لیں تو سارا جھگڑا ہی ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہ حدیث بھی یکبارگی تین طلاق کے ایک واقع ہونے میں نص قطعی کا درجہ رکھتی ہے۔ (۴) اگر فی الواقع رسول اﷲ صلی اللہ وسلم نے یکبارگی تین طلاقوں کو نافذ کر دیا تھا تو اتنی مدت بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا چیز نافذ کی تھی؟ جس کے متعلق وہ خود فرما رہے ہیں کہ ’’فَلَوْ اَمْضَیْنَاہُ عَلَیْہِمْ‘‘ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ: اس قسم کی حدیثوں کے متعلق امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ولم ینقل احد من النبی صلی اﷲ علیہ وسلم باسناد منقول ان احد طلق امراءتہ بکلمة واحدة فالزمہ الثلاث بَلْ رُوِیَ فِی ذلک احادیث کلہا باتفاق اہل العلم کذبةً ولکن جاء فی حدیث صحیحة ان فلانا طلق امراتہ ثلاثا ای متفرقة۔(فتاوی ابن تیمیہ ج ص۸۸ بحوالہ مقالات ص۲۱۳) کسی نے بھی رسول اﷲ صلی اللہ وسلم سے اسناد کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ نقل نہیں کیا ہے کہ کسی شخص نے بیک کلمہ تین طلاقیں دی ہوں اور آپ صلی اللہ وسلم نے ان تین طلاقوں کو لازم کر دیا ہو بلکہ اس سلسلہ میں جو حدیثیں بھی مروی ہیں‘ وہ باتفاق اہل علم جھوٹی ہیں۔ ہاں احادیث صحیحہ میں اس بات کا ذکر ہے کہ فلاں شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے متفرق طور پر تین طلاقیں دی تھیں۔