کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 58
(دوسری حدیث) لعان کے بعد کی طلاقیں: قاری صاحب موصوف نے جو دوسری حدیث پیش فرمائی وہ بھی عویمر عجلانی کے لعان والے واقعہ سے متعلق ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ یوں ہیں: قال عویمر کذبت علیہا یا رسول اﷲ ان امسکتہا فطلقہا ثلاثا قبل ان یا مرہ رسول اﷲ صلی اللہ وسلم (بخاری مسلم، السنن الکبریٰ) حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ وسلم کے سامنے لعان کرنے کے بعد آپ صلی اللہ وسلم کے فیصلہ کرنے سے قبل یہ کہا کہ اگر میں اس عورت کو اپنے پاس رکھوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ باندھا تھا۔ لہٰذا عویمر رضی اللہ عنہ نے فورا آپ صلی اللہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ (منہاج ص۳۰۵) دیکھئے میاں بیوی کے درمیان جدائی کی پانچ اقسام ہیں: (۱) ایلاء (۲)ظہار (۳) طلاق (۴)خلع (۵) لعان۔ ان سب میں سے سخت اور شدید تر قسم لعان ہے۔ لہٰذا جدائی کی یہ قسم مرد کے ایک یا تین طلاقیں دینے کی قطعاً محتاج نہیں اور حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ نے تین طلاق کے الفاظ کہہ کر محض اپنے دل کی حسرت مٹائی تھی، کیونکہ لعان سے جودائمی جدائی ہوتی ہے، وہ طلاق مغلظہ سے بھی شدید تر ہوتی ہے ۔(بخاری کتاب الطلاق‘ باب التفریق بین المتلاعنین) اس بات میں تو اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ یہ جدائی لعان کے فورا بعد از خود ہی موثر ہوتی ہے یا قاضی کے فیصلہ کی بھی محتاج ہے، جیسا کہ لعان کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ وسلم نے حضرت عویمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ ’’لَا سَبِیْلَ لَکَ عَلَیہَا‘‘ (اب تمہارا اس عورت سے کوئی سروکار نہیں)لیکن اس بات میں قطعاً کوئی اختلاف نہیں کہ اس موقعہ پر مرد کا طلاقیں دینا ایک عبث اور زائد از ضرورت فعل ہے۔ دور نبوی صلی اللہ وسلم میں عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کے علاوہ لعان کا ایک اور واقعہ بھی ہوا تھا۔ ہلال رضی اللہ عنہ بن امیہ اور ان کی بیوی نے آکر آپ صلی اللہ وسلم کے سامنے لعان کیا اور قسمیں کھائیں تو ہلال بن امیہ کے طلاق یا طلاقیں دینے کے بغیر ہی مکمل