کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 59
جدائی ہو گئی۔ (بخاری کتاب الطلاق) لعان‘ جدائی کی شدید تر قسم: اب ہم یہ وضاحت کریں گے کہ لعان کن کن امور میں طلاق سے شدید تر ہوتا ہے۔ (۱) احسن طلاق یا طلاق السنہ (صرف ایک طلاق دے کر پوری عدت گزر جانے دینا) کے بعد زوجین آپس میں تجدید نکاح کے ذریعہ پھر اکٹھے ہو سکتے ہیں اور تین طلاق یا طلاق مغلظہ کے بعد ’’حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہ‘‘ کی شرط ٹھیک طور پر پوری ہونے کے بعد (نہ کہ حیلہ سازی سے) سابقہ زوجین پھر نکاح کر سکتے ہیں‘ مگر لعان کے ذریعہ جدائی اتنی سخت ہوتی ہے کہ بعد میں ان کے اکٹھے ہونے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی ۔(مؤطا امام مالک کتاب الطلاق‘ باب جامع الطلاق) (۲) طلاق کے بعد عورت متعہ کی حق دار ہوتی ہے لیکن لعان کی صورت میں اسے متعہ نہیں ملے گا۔ (بخاری کتاب الطلاق‘ باب المتعۃ التی لم یفرض لہا) (۳) طلاق کے بعد نومولود (اگر کوئی ہو تواس) کا نسب باپ سے چلتا ہے۔ لعان کی صورت میں یہ نسب ماں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ (بخاری کتاب الطلاق‘ باب یلحق الولد بالملاعنۃ) (۴) طلاق کی صورت میں نومولود (اگر کوئی ہو تو) والد کا وارث ہوتا ہے۔ لیکن لعان کی صورت میں بچہ ماں کا وارث‘ ماں بچے کی وارث ہوتی ہے۔ ماں کے خاوند سے نومولود کا یا اس کی ماں کا کسی قسم کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ (بخاری‘ کتاب الطلاق) انہی وجوہ کی بنا پر علمائے احناف نے بھی حضرت عویمر رضی اللہ عنہ کے تین طلاق کہنے سے تطلیق ثلاثہ کے جواز پر احتجاج نہیں کیا۔ اب رہا یہ سوال کہ اگر حضرت عویمر رضی اللہ عنہ کا یہ فعل عبث تھا تو آپ صلی اللہ وسلم خاموش کیوں رہے؟ اس کے دو عدد جوابات ممتاز حنفی عالم شمس الائمہ سرخسی کی زبانی سنیے‘ جو انہوں نے اپنی تالیف ’’مبسوط‘‘ میں بیان فرمائے ہیں: (۱) ’’رسول اﷲ صلی اللہ وسلم نے حضرت عویمر رضی اللہ عنہ کو ٹوکا نہیں تو یہ بات شفقت کی بنا پر تھی۔ کیوں کہ یہ ممکن تھا کہ شدت غضب کی بنا پر وہ آپ صلی اللہ وسلم کی بات قبول نہ کر پاتے اور کافر ہو جاتے۔ اس لیے رسول اﷲ صلی اللہ وسلم نے دوسرے وقت کے لیے ٹوکنے کو مؤخر کر دیا۔ اور اتنا اسی وقت فرما دیا کہ ’’لا سبیل لک علیہا‘‘ یعنی ’’تجھے اب اس عورت پر کچھ اختیار نہیں رہا‘‘