کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 61
جواب: (۱) یہ استدلال اس لیے مبہم ہے کہ ثلاثا کے لفظ سے قطعا یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ تین طلاقیں متفرق اوقات میں دی گئی تھیں یا ایک ہی مجلس میں؟ (۲) مزید برآں مسلم ہی کی ایک دوسری روایت میں یہ وضاحت موجود ہے کہ یہ تیسری اور آخری طلاق تھی‘ جو فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت قیس کے شوہر عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے دی تھی۔ اس روایت کے آخری الفاظ یوں ہیں۔ ’طلقہا اخر ثلاث تطلیقات (مسلم کتاب الطلاق‘ باب المطلقہ البائن لا نفقة لہا) یعنی عمرو رضی اللہ عنہ بن حفص نے آخری تیسری طلاق دی تھی۔ (۳) اور مسلم ہی کی ایک اور روایت کے آخری الفاظ یوں ہیں: فارسل إلی امرأتہ فاطمة بنت قیس کانت بقت من طلاقہا (مسلم ایضاً) ’یعنی عمرو رضی اللہ عنہ بن حفص نے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت قیس کو وہ طلاق بھیجی جو ابھی باقی تھی۔ (یعنی تیسری یا آخری)۔ ان وجوہ کی بنا پر اس واقعہ سے استدلال قطعا درست نہیں۔ چوتھی حدیث رفاعہ قرظی کا قصہ: رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ سے متعلق مذکور ہے‘ رفاعہ کی بیوی آپ صلی اللہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگی کہ رفاعہ نے مجھے طلاق بتہ دی اور میں نے عبدالرحمان بن زبیر سے نکاح کیا‘ مگر وہ تو کچھ بھی نہیں۔ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا ’’شاید تم رفاعہ رضی اللہ عنہ کے پاس جانا چاہتی ہو۔ یہ ناممکن ہے تاآنکہ تم دونوں ایک دوسرے کا مزہ نہ چکھ لو۔‘‘ (بخاری‘ کتاب الطلاق‘ باب من اجار الطلاق الثلاث) جواب: اس حدیث کا لفظ ’’بتہ‘‘ سے اکٹھی تین طلاق کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ حالانکہ یہ استدلال بھی مبہم ہے‘ کیونکہ بتہ اور آخری یا تیسری طلاق سب کا مفہوم ایک ہے۔ تو جس طرح حدیث سابق میں تیسری کا لفظ مبہم تھا‘ بعینہ یہاں بھی مبہم ہے۔ مزید برآں اس کی تفصیل بخاری ہی میں کتاب الادب میں موجود ہے، جو یہ ہے کہ: انہا کانت تحت رفاعة فطلقہا اخر ثلاث تطلیقات فتزوجہا بعدہ عبدالرحمن بن زبیر۔