کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 62
(بخاری کتاب الادب) وہ رفاعہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھی، رفاعہ نے اسے آخری تیسری طلاق بھی دے دی تو اس کے بعد اس سے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بن زبیر نے نکاح کر لیا۔ پانچویں حدیث: حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ کا طلاق دینا: یہ حدیث حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ کے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دینے سے متعلق ہے۔ مرفوع احادیث میں تو اتنا ہی مذکور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اﷲ صلی اللہ وسلم سے اس طلاق کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ وسلم نے حضرت عبداﷲ رضی اللہ عنہ کو رجوع کا حکم دیا اور طلاق دینے کا صحیح طریق بتلایا۔ قائلین تطلیق ثلاثہ کا احتجاج اس واقعہ سے متعلق نہیں‘ بلکہ حضرت عبداﷲ رضی اللہ عنہ کے اس فتویٰ سے متعلق ہے جو انہوں نے کسی سائل کے جواب میں دیا‘ اور وہ بخاری میں یوں مذکور ہے: ’’اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو بار طلاق دی ہے تو یہ وہ صورت ہے جس میں رسول اﷲ صلی اللہ وسلم نے مجھے رجعت کا حکم دیا اور اگر تم نے تین طلاقیں دے دیں تو تم پر بیوی حرام ہو گئی‘ جب تک وہ کسی دوسرے آدمی سے نکاح نہ کر لے اور تم نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے سلسلہ میں نافرمانی کی۔‘‘ جواب: یہ اثر بھی مبہم ہے کیونکہ ’’طلقہا ثلاثاً‘‘ سے مراد تین دفعہ کی طلاق ہی ہو سکتی ہے اور اﷲ کی نافرمانی کا تعلق حالت حیض میں طلاق دینے سے ہے‘ کیوں کہ ان کا اپنا واقعہ معصیت حالت حیض میں طلاق دینے سے تعلق رکھتا ہے۔ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ کے فتویٰ کی مزید وضاحت مصنف ابن ابی شیبہ‘ دارقطنی اور طبرانی میں جس طرح مرقوم ہے‘ اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے اس اثر کو مرفوع حدیث کا درجہ عطا کر دیا ہے کہ (ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے کہا‘ ’’یا رسول اﷲ صلی اللہ وسلم ! اگر میں تین طلاقیں دے دیتا تو کیا میرے لیے رجوع حلال ہوتا؟‘‘ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا ’’نہیں وہ تجھ