کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 64
میں یہ اضافہ کر دیتا‘ یا صرف ایسا اضافہ شدہ ترجمہ ہی لکھ کر نسائی کا حوالہ درج کر دیتا۔ جب کہ متنازعہ فقرہ نسائی کی حدیث میں اضافہ نہیں‘ بلکہ اس کی بنیاد درج ذیل امور ہیں: (۱)مسلم کی تین احادیث کے مطابق دور نبوی صلی اللہ وسلم میں اکٹھی دی گئی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا۔ (۲) نسائی ہی کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ وسلم اکٹھی تین طلاق دینے پر اس قدر برا فروختہ ہوئے کہ شدت غضب سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا ’’میری موجودگی ہی میں کتاب اﷲ سے یوں کھیلا جا رہا ہے‘‘ آپ صلی اللہ وسلم کی یہ حالت دیکھ کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ وسلم سے اذن چاہتا ہے کہ ’’یا رسول اﷲ صلی اللہ وسلم ! میں اس شخص کو قتل نہ کردوں؟‘‘ ان حالات میں عقل یہ باور نہیں کرتی کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود ان تین طلاقوں کو تین ہی رہنے دیا ہو۔ اس کے برعکس جناب قاری صاحب فرماتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ وسلم نے اس ناراضگی کے باوجود ان تین طلاقوں کو اس پر نافذ کر دیا تھا‘‘ چنانچہ محمود بن لبید کی اسی روایت کو نقل کرنے کے بعد حافظ ابن قیم لکھتے ہیں کہ: ’فلم یردہ النبی صلی اللہ وسلم بل امضاہ کذافی حدیث عویمر العجلانی فی اللعان حیث امضی طلاقہ الثلاث ولم یردہ۔(تہذیب سنن ابی داؤد‘ ص ۱۲۹ ج ۲‘ بحوالہ عمدۃ الاثاث) حضور صلی اللہ وسلم نے تین طلاقوں کو رد نہیں کیا بلکہ ان کو نافذ کر دیا۔ اور جیسا کہ عویمر عجلانی کی لعان والی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ وسلم نے اس کی تین طلاقوں کو نافذ فرما دیا اور رد نہیں کیا تھا۔ (منہاج مذکور ص۳۱۲) امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے قاری عبدالحفیظ صاحب کی درج کردہ یہ روایت کئی وجوہ کی بنا پر محل نظر ہے۔ مثلاً: (۱) آپ نے ’’عمدۃ الاثاث‘‘ کا حوالہ مکمل درج نہیں فرمایا کہ اس کی طرف رجوع کیا جاسکے۔ (۲) حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ ان اساطین میں سے ہیں جو ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک قرار دینے والے گروہ کے علمبردار ہیں۔ ان سے ایسی تحریر کی توقع محال ہے۔