کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 69
’یا امیر المومنین ان شئت لما جعل اﷲ علی من حقک لا احدث بہ احدا- (مسلم کتاب الحیض‘ باب التیمم) اے امیر المومنین! اﷲ تعالیٰ نے آپ کا جو حق مجھ پر رکھا ہے (یعنی آپ خلیفہ ہیں اور میں رعیت ہوں) اگر آپ چاہیں تو میں یہ حدیث کسی سے بیان نہ کروں گا۔ اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی سیاسی مصلحت کی خاطر حج تمتع سے بھی منع فرمایا کرتے تھے‘ حالانکہ رسول اﷲ صلی اللہ وسلم نے خود صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین کو حج تمتع کی ترغیب دی تھی۔ اس مسئلہ میں بھی بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مقصد کا لحاظ رکھتے تھے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ: ’’ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ حج تمتع کا فتویٰ دیتے تھے‘ تو ایک شخص نے کہا: آپ اپنے بعض فتوے روک رکھیں‘ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امیر المومنین نے حج کے سلسلہ میں جو نئی بات نکالی ہے۔‘‘ (مسلم ‘ کتاب الحج‘ باب جواز تعلیق الحرام) ان واقعات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اصل حقیقت معلوم ہونے کے باوجود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمین بسا اوقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عائد کردہ حدود و قیود کے مطابق فتوے دیا کرتے تھے۔ یا کم از کم اس کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔ تطلیقات ثلاثہ کا مسئلہ بھی انہی میں سے ایک ہے اس مسئلہ میں جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمین نے آپ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے مطابق فتوے دینا شروع کر دیئے تھے ان کے نام یہ ہیں: حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ ‘ عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ‘ انس بن مالک رضی اللہ عنہ‘ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور مغیرہ رضی اللہ عنہ ۔ اور جو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف ہی فتوے دیتے رہے‘ ان کے نام یہ ہیں‘حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ‘ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ‘ زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ ۔ (دیکھئے اعلام الموقعین ص۸۰۳) اور مندرجہ ذیل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمین سے دونوں قسم کے فتوے منقول ہیں: حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ ‘ اور عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔