کتاب: تین طلاق اور ان کا شرعی حل - صفحہ 70
(حوالہ ایضاً) جب یہ حضرات ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے موافق فتوے دیتے تو ان کے ایسے فتووں کی خاص علامت یہ ہوتی ہے کہ ایسے فتاوی سے زجر و توبیخ اور تعزیر از خود مترشح ہوتی ہے۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ کے فتوے: مثلاً حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ کو لیجئے‘ صحیح مسلم میں مذکور حدیث کہ ’’دور فاروقی کے پہلے دو سالوں تک ایک مجلس تین طلاق کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا‘‘ کے راوی آپ رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ پھر دو مزید احادیث جن میں اسی مضمون پر ابوالصہباء کے سوال کا جواب دیتے ہیں‘ صحیح مسلم ہی میں موجود ہیں۔ ابوداؤد میں بھی آپ رضی اللہ عنہ سے اسی مضمون پر مشتمل ایک روایت موجود ہے۔ علاوہ ازیں ابوداؤد میں آپ رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ بھی موجود ہے: اِذَا قَالَ اَنتِ طَالِقُ ثَلاثاً بِفَمٍ واحد فہی واحدةُ- (ابو دائود ‘ کتاب الطلاق) جب کسی نے (اپنی بیوی سے) ایک ہی وقت میں تین طلاق کہا، تو یہ ایک ہی ہوگی۔ اور ایک صحیح روایت میں حضرت طائوس سے مروی ہے کہ: واﷲِ مَاکَانَ ابْن عباس یجعلہا اِلَّا بواحدة۔ (عون المعبود شرح ابوداؤد ج۲، ص۲۳۷) اﷲ کی قسم! ابن عباس رضی اللہ عنہ اسے (تطلیق ثلاثہ کو) ایک ہی طلاق شمار کرتے تھے۔ اب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا وہ تعزیری فتویٰ بھی ملاحظہ فرمائیے جو قاری صاحب نے درج فرمایا ہے ۔ (ہم صرف ترجمہ پر اکتفا کریں گے) ’’حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آکر کہنے لگا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہیں۔ مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔ میں نے گمان کیا، شاید ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کی بیوی کو واپس لوٹا دیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’تم میں ایک شخص حماقت کر بیٹھتا ہے‘ پھر کہتا ہے اے ابن عباس رضی اللہ عنہ ! اے ابن عباس رضی اللہ عنہ ! اور اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اﷲ سے ڈرتا ہے ‘ اﷲ تعالیٰ ضرور اس کیلئے آسانی کی راہ نکالتا ہے اور بلا شبہ تو اﷲ تعالیٰ سے نہیں