کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 118
عظیم آباد پٹنہ سے دہلی کے لیے رحلت عظیم آباد پٹنہ میں تحصیل علم کے بعد میاں صاحب نے تحصیل علم کے لیے دہلی کی طرف سفر کیا ۔ راستہ میں اللہ آباد، فرخ آباد، غازی پور وغیرہ میں قیام کرتے ہوئے 1243ھ میں دہلی وارد ہوئے جناب شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کو انتقال کئے ہوئے چار برس ہوچکے تھے ۔ تحصیل علم دہلی میں السیدمیاں صاحب نے درسی کتابیں مولانا عبد الخالق دہلوی، مولانا شیخ شیر محمدقند ہاری، مولانا جلال الدین ہروی، مولانا شیخ کرامت علی اسرائیلی ، مولانا شیخ محمد بخش دہلوی، مولانا عبد القادر رامپوری سے تمام علوم عقلیہ ونقلیہ میں اکتساب فیض کیا، اور یہ تمام علوم آپ نے پانچ سال میں پڑھے ۔ صاحب نزہۃ الخواطر فرماتے ہیں ۔ ’’فقرأ الکتب الدرسیة علی السید عبد الخالق الدہلوی والشیخ شیر محمد القندہاری والعلامة جلال الدین الہروی، وأخذ الأصول والبلاغة والتفسیر عن الشیخ کرامة العلی الإسرائیلی صاحب السیرة الأحمدیة،والہیئة والحساب عن الشیخ محمد بخش الدہلوی، والأدب عن الشیخ عبد القادر الرامبوری وفرغ من ذلک فی خمس سنین‘‘ جناب شاہ محمد اسحاق دہلوی کے حلقہ درس میں علمائے دہلی سے استفادہ کے بعدالسید میاں صاحب حضرت شاہ محمد اسحاق دہلوی(نواسہ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی) کے درس میںشامل ہوئے اور ان کی خدمت میں (13) سال رہ کر تمام علوم اسلامیہ سبقاً سبقاً پڑھے۔