کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 127
گوندلوی(متوفی 1985ء) حضرت الامام مولانا سید عبد الجبار غزنوی (متوفی 1331ھ) کے شاگرد تھے اور شیخ الحدیث مولانا محمد اسمعیل سلفی (متوفی 1968ء) حافظ الحدیث عبد المنان وزیر آبادی (متوفی 1334ھ) کے فیض یافتہ تھے ۔ حضرت العلام حافظ عبد اللہ محدث روپڑی حضرت العلام حافظ عبد اللہ محدث روپڑی (متوفی 1384ھ) اپنے دور کے بلندپایہ عالم دین، مورخ ومحقق اور عربی زبان پر مکمل عبور رکھنے والے ، فتویٰ نویسی میں جامع الکمال بہت بڑے مصنف اورمدرس تھے تمام علوم اسلامیہ یعنی تفسیر،حدیث،فقہ، اصول فقہ، تاریخ وسیر، ادب، انساب ، اسماء الرجال،علم الکلام، فلسفہ ومنطق،عربی وانشاء اور صرف ونحو میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ حضرت محدث روپڑی کے علمی تبحر اور علوم اسلامیہ میں ژرف نگاری کا مولانا ابو سعید محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ اور امام حدیث مولانا عبد الرحمان محدث مبارکپوری نے اعتراف کیا ہے مولانا بٹالوی مرحوم نے اپنے رسالہ ’’اشاعۃ السنۃ‘‘ میں لکھا کہ حافظ عبد اللہ روپڑی علم وفضل میں حافظ عبد اللہ غازی پوری رحمہ اللہ کے ہم پلہ ہیں۔ مولانا عبد الرحمان محدث مبارکپوری رحمہ اللہ نے ایک طالب علم عرب نجدی الاصل سے فرمایاکہ حافظ عبد اللہ روپڑی جیسا ذی علم اور لائق استاد تمام ہندوستان میں کہیں نہیں ملے گا ہندوستان میں ان کی نظیر نہیں ۔ تدریس میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا ، ان کے تلامذہ میں مولانا عبد الجبار کھنڈیلوی، مولانا سید بدیع الدین شاہ راشدی ، مولانا محمد صدیق بن عبد العزیز ، حافظ محمد اسمعیل روپڑی، حافظ عبد القادر روپڑی، حافظ عبد الرحمان مدنی، حافظ ثناء اللہ مدنی،حافظ عبد الرحمان کمیرپوری اور مولانا محمد یوسف آف راجووال شامل ہیں۔