کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 129
اِسلام اور ریلیاں سفیان سیف اِسلام ایک طاقتور دین تھا، کمزوروں نے اسے ناتواں کردیا۔ اسلام ایک ہمہ گیر مذہب تھا، تنگ نظروں نے اسے سطحی بنادیا۔ اسلام ایک عالمی نور تھا، گمراہوں نے اسے مغرب کی تاریکیوں میں ڈبادیا۔ اسلام امن کا گہوارا تھا، بیمار ذہنوں نے اسے دہشت گرد ی سے جوڑدیا۔ اسلام زمانے کا اِمام تھا، پست قدموں نے اسے صفِ آخر میں دھکیل دیا۔ اسلام دینِ کامل تھا، نفس کے غلاموں نے اسے ناقص قرار دیدیا۔ اسلام حسنِ خُلق کا پیامبر تھا، بداَخلاقوں نے اس کے حسن کو گہنادیا۔ اسلام اَعلیٰ اَقدار و تہذیب کا علمبردار تھا،یورپی فکر کے حاملوں نے اسے پراگندہ کردیا۔ اسلام خلوص کا پیکر تھا، منافقوں نے اس کے دامن کو تارتار کردیا۔ اسلام اپنی وسعتوں میں بحرِبے کراں تھا، کج فہموں نے اسے قطرۂ آب سمجھ لیا۔ اسلام قیامت تک آنے والے تمام انسانوںاور جنوں کےلیے نیّرِ تاباں تھا، لوگوں نے اسے ظلمت ِ شب کا مسکن بنا دیا۔ اسلام عدل و انصاف کا سرچشمہ تھا، ظالموں نے اس پر ظلم و عدوان کی باڑھ لگادی۔ اسلام ہم رنگ ِ زمانہ تھا، تاریک خیالوں سے وقت سے متصادم کردیا۔ اسلام معلّمِ کائنات تھا، جاہلوں نے اس کے گرد جہالت کے گڑھے کھود دیئے۔ اسلام شدتِ انتقام سے شمشیرزن ہوکر کفر کی گردن زدنی کا نام تھا، شورش پسندوں نے اسے رسمی نعروں کا شور بنا دیا۔ اسلام جذبات کی حدّت سے میدانِ جہاد کو گرمانے کا نام تھا، عجلت پسندوں نے اسے سڑکوں کا رساؤ بنا دیا۔ اسلام وقت کے سینے کی دھڑکن تھا، مردہ دلوں نے اسے زمانے کی موت