کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 130
ٹھہرا دیا۔ جی ہاں! اسلام خلد ِبریں کی حسین شاہراہ تھا، وقت کے شدادوں نے اس شاہراہ پر اپنے لیے سیم و تھور کا بازار لگوا دیا۔ اسلام ہر اعتبار سے مسلمانوں کا راہنما ہے، کیا خوشی کیا غم، کیا جذبات کیا فہم، کیا انتقام اور کیا کرم۔ معاملہ نیا نہیں ہے، رسمِ ظلم و ستم بھی نئی نہیں ہے، اہل کفر کی طرف سے اہل اسلام کےمذہبی جذبات سے چھیڑ چھاڑ بھی وہی دیرینہ ہے، تو پھر اندازِ جوابِ آں غزل نیا کیوں ہے؟ توہینِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ آج کا نہیں ہے، اس کی تاریخ کوہِ صفا سے شروع ہوتی ہے۔ توہینِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا گستاخ ابولہب تھا۔ اسلام کا قانون ہے کہ جو جس عمل کی ابتدا کرےگا۔ وہ عمل جاری رہنے تک اس کی سزا یا جزا لے گا۔ ابولہب ملعون نے گستاخی ٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدا کی، لہٰذا آج تک جو بھی اس کا مرتکب ہوا ہے یا ہوگا‘ وہ اولادِ ابولہب میں سے شمار ہوگا۔ آج کا مسلمان بھی بڑا ہی عجیب ہے۔ جن کے خلاف احتجاج کررہا ہے، طریقۂ احتجاج بھی انہی کا اختیار کیا ہوا ہے۔ ہمیشہ یادرکھو ! جو اوروں کے چراغوں سے تیل لیتے ہیں ،ہمیشہ اندھیرے میں قید رہتے ہیں۔ کسی کے خلاف ریلی نکالنا کونسے اسلام لا دیا ہوا سبق ہے؟ قرآن کی کس آیت یا نبی کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی کس حدیث سے ثابت ہے؟ یا پھر خلفاءِ راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کس کا طرزِ عمل ہے؟ گستاخیاں تو تب بھی ہوتی تھیں، جب خود امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ ابی و امی) کائنات میں رونق افروز ہوا کرتے تھے۔ تب اس گستاخی کا جواب کیسے دیا جاتا تھا؟ ہمارے مطالعہ کے مطابق گستاخوں کا زمانہ تین اَدوار پر مشتمل ہے۔ اور تینوں اَدوار کا اندازِ انتقام بھی مختلف ہے، مگر ان میں کہیں بھی ریلی یا جلوس کا عمل دخل نظر نہیں آتا۔ مکہ کا تیرہ سالہ دورِ تبلیغ‘ جوکہ پورے کا پورا بدسے بدترین گستاخوں اور گستاخیوں سے عبارت ہے۔ ’’تباً لک یا محمد‘‘ کا دل خراش جملہ۔ ساحر، مجنون، شاعر، مذمم اور وضاعِ دین جیسے کئی سماع خراش آوازے۔ ابوجہل کا بحالت ِ سجدہ جانور کی اوجھڑی‘ ساقی ٔ کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے سر ِ اقدس پر ڈالنا۔