کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 133
یہاں پر بھی نہ کوئی ریلی نکلی، نہ جلوس سڑک چھاپ ہوا اور نہ ہی کوئی ہڑتال ہوئی۔ آخر فتح ِ مبین کی منزل قریب آئی۔ مکہ زیرِ نگیں ہوا اور اہل مکہ سرنگوں ! ہر ایک کو امان دی گئی، سوائے ان سابقہ گستاخوں کے ‘ کہ جو ہجرت سے پہلے اَشرارِ مکہ ثابت ہوئے تھے۔ ان کے بارے میں حکم ہوا کہ: ’’اگر کعبہ کی دیوار سے بھی چمٹے ہوں تو قتل کردیا جائے۔ یہ ہے تیسرا اور آخری دورِ انتقام۔ اب کوئی مصلحت پاؤں کی زنجیر نہیں! اب کوئی خوف دامن گیر نہیں! اب کوئی اعتراض قابلِ شنید نہیں! جب جذبات سنبھالے جاتے، زخم کریدے جاتے اور عزائم کو سینوں میں بیدار رکھا جاتاہے، تب انتقام صرف دشمن کی موت کی صورت میں ہی جلوہ گر ہوتا ہے۔ ریلی تو کمزوری کی علامت ہے، نااہلی کو پردۂ زرنگار میں چھپانے کی مذموم سعی ہے اور جذبات کے تقدس کو شاہراہوں کی دُھول چٹانا ہے۔ بقولِ اقبال:؎ مجھ کو معلوم ہیں پیران حرم کے انداز ہو نہ اخلاص تو دعوائے نظر لاف و گزاف اور یہ اہل کلیسا کا نظامِ تعلیم ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف جاننے والے اگر فہم آشنا ہوں، پڑھنے والے اگر فطرت کے نکتہ رساں ہوں اور سمجھنے والوں کے دریچۂ دِل وا ہوں‘ تو ان کے لئے مشرکین مکہ کی انتقامی مثال ہی کافی ہے کہ فطرت کے باغی اپنے ’’دشمن دین‘‘ کے مقابلے پر کیسے فطرت شناس ہوجایا کرتے تھے؟ مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خامہ فرسائی کی ہے کہ غزوۂ بدر میں شکست و ریخت کے بعد وہ کس قدر ’’خاموش ‘‘ ہو بیٹھے تھے۔ انہوں نے باہم فیصلہ کر لیا تھا کہ اپنے غم کو سینے کا ہار اور سر کا تاج بنا کر رکھیں گے، تاآنکہ آئندہ دنوں میں بھرپور تیاری کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کریں اور ان سے اپنی