کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 134
شکست ِبدر کا بدلہ لیںگے۔ انہوں نے مکمل خاموشی سے بھرپور تیاری کی۔ مزید قبائل عرب کو ساتھ ملایا۔ بدر کے حملے سے محفوظ ابوسفیان کے قافلے کے تمام تاجروں نے اپنے کل مال کو اُحد کی تیاری کے لئے وقف کردیا ۔ کوئی شخص ایسا نہ تھا جو کسی نہ کسی صورت میں میدانِ اُحد میں موجود ہو، جو خود نہ تھا‘ اس کا قرض دار تھا، مالک نہ تھا تو غلام تھا۔ کوئی لالچ پر آیا تھا تو کوئی دھمکی سے لایا گیا تھا، الغرض یہ ان کے لئے بقا یا فنا کی جنگ تھی، مگر کس قدر خاموشی کے ساتھ! !  فطرت کے منکر بھی اس کے زیر اثر تھے! خدا کے منکر بھی خدا کے خوگر تھے! کاش ! کہ ملت ِ اسلامیہ کے موجودہ حدی خواں‘ جو اپنی چوہدراہٹوں کے خول میں گردن دبائے مست مۓ پندار بیٹھے ہیں، کبھی اسلام کے آفتابِ تاباں کے مزاج آشنا بھی بن پا تے‘ تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ اسلام شور شرابے، اٹکھیلیوں اور شرارتی ناز و اَداسے اٹھلاتی رونقِ بازاری کا نام نہیں ہے۔ اسلام تو ہر باطل کے مقابلے پر شمشیرِ برہنہ کا نام ہے! اسلام تو [فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْہُمْ کُلَّ بَنَانٍ ]کا نام ہے! اسلام تو گردنِ کفار کو محرومِ بدن کرنے کا نام ہے! کاش ! کہ دعوت و ارشاد کے مسند نشینوں نے بھی کبھی سوچا ہوتا‘ کہ ہم اپنی ذاتی خودنمائی کیلئے ناموسِ رسالت کو کمائی کا ذریعہ کیوں بنائیں! کاش! کہ کبھی ان کے دل کی راہ گذر پر یہ خیال بھی ٹھہرا ہوتا کہ ہم نے اپنی سیاست کے اندھیروں کو قرآن کے نور سے منور کرنے کی کوشش کی ہوتی! کاش! کہ انہوں نے یہ خیال آرائی بھی کی ہوتی کہ سنت ِ رسول  کی ضیا پاشیاں کبھی ہمارے بے آباد مکانوں پر بھی دستک کناں ہوئی ہوتیں! تو آج ماحول ریلیوں کا نہیں، بلکہ دعوت و جہاد کے ان ریلوں کا ہوتا‘ جس کے آگے کفار کے لاکھوں کے لشکر بھی ریت کے ذرات سے حقیر تر ہوا کرتے تھے! ان ابابیلوں کا ہوتا‘ جو اتحادی افواج پر شاہین بن کر برستے!