کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 135
ان ملائکہ کا ہوتا ‘ جن کی حیات کے سب سے قیمتی لمحات بدر کے میدان میں خاک بہ سر ہوئے! ؎ فضائِ بدر پیداکر، فرشتے تیری نصرت کو اترسکتے ہیں، گردوں سے ‘ قطار اندر قطار اب بھی! اور ؎ آج بھی ہو‘ جو ابراہیم سا ایماں پیدا تو آگ کر سکتی ہے وہی اندازِ گلستاں پیدا ! ضرورت ہے اس بات کی کہ اسلام کی حقیقی روح کو ناصرف یہ کہ اچھی طرح سمجھا جائے، بلکہ اس کے مزاج سے اپنے آپ کو مزاج آشنا بھی کیا جائے۔ نہ کہ‘ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں‘ کے مصداق اسلام کو اپنے ہم آہنگ بنانے کی سعیٔ لاحاصل کرے، بلکہ خود بھی اور اپنے مقتدیوں، اپنی جماعت کے کارکنوں اور ماتحت لوگوں کو بھی اسلام شناسی پر کاربند کرے کہ یہی اور بس یہی ایک طریقہ غلبہ ٔ اسلام کیلئے کارآمد و مجرب ہے، وگرنہ سڑکوں کی دھول ہی آپ کا مقدر ہے! خودی کا سرِ نہاں لا الٰہ الا اللہ خودی ہے تیغ، فساں لا الٰہ الا اللہ یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے صنم کدہ ہے جہاں، لا الٰہ الا اللہ کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا فریبِ سود و زیاں، لا الٰہ الا اللہ یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں، لا الٰہ الا اللہ خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زُناری نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الٰہ الا اللہ یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند بہار ہو کہ خزاں، لا الٰہ الا اللہ اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں مجھے ہے حکم اذاں، لا الٰہ الا اللہاس شعر کے ساتھ اپنے مضمون کے سرِ محضریہ مہرلگا رہا ہوں کہ ؎ اب جو چاہے وہی پائے روشنی ہم نے تو دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا!