کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 14
مولانا وحید الزمان نے اپنے دوست کو اپنے انداز میں جواب تحریر کردیا۔ البتہ اس سے یہ واضح ہوگیاہے کہ مولانا کے زمانہ میں ہی ان کے بیان کردہ بعض مسائل کو اہل حدیث کی ترجمانی کرنے والے عظماء نے قبول نہیں فرمایا جس کے نتیجے میں عام اہل حدیث نے بھی ان کی فکر کو قبول نہیں کیا تھا ، بلکہ مسترد کردیا ۔ بالخصوص متعدد اہم ترین مسائل کے حوالے سے۔ (1)صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین محدثین عظام اور اہل سنت کے تقریباً سب ہی مکاتب فکر کا اتفاق ہے کہ قرآن مقدس کی آیات مبارکہ کی ترتیب توقیفی ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود آیات مبارکہ کی ترتیب ارشاد فرمائی اور وہ اللہ کے حکم کے مطابق تھی۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا وعدہ ہے ۔ [اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ][الحجر:۹] ’’ہم نے قرآن اتارا ہے اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔‘‘ اسی ترتیب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو قرآن سنایا اور صحابہ کرام کو حفظ کرایا، اسی ترتیب پر وہ قرأت کرتے رہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، سوا ئے شیعہ کے ۔ان کا کہنا ہے کہ قرآن مقدس کی آیات میں تقدیم و تاخیر ہوئی ہے اور بعض آیات موجودہ قرآن مقدس سے ہٹا دی گئی ہیں !جیسا کہ اصول کافی اور تحریف کلام رب الارباب وغیرہ کتب اثنا عشریہ میں مرقوم ہے۔ اور یہ نظریہ درست نہیں جبکہ مولانا وحید الزمان رحمہ اللہ بھی اس نظریے کے قائل ہیں آیت تطہیر کی تفسیر میں لکھتے ہیں’’ ایک جماعت محققین نے اس مذہب کو ترجیح دی ہے کہ آیت میں آپ کی بیبیاں اور حضرت فاطمہ اور حضرت علی اور حسن اور حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین سب داخل ہیں اور بعضوں نے اس کو خاص رکھا ہے نسبی گھر والوں سے یعنی حضرت فاطمہ اور حضرت علی اور حسن اور حسین سے۔ مترجم کہتاہے صحیح مرفوع حدیثیں اس کی تائید کرتی ہیں اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےخود بیان کردیا