کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 31
کرسکتا لہٰذا جب محسوس کرتا ہےکہ خوبیاں اس کی قوت برداشت سےباہر ہوجاتی ہیں تو وہ انتہائی قدم اٹھا تے ہوئے اس شخص پر جادو کروا دیتا ہے جس سے اسے حسد ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ہے کہ :[وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ] [الفلق:5] ’’اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب حسد کرنے لگے‘‘ یہودی لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول بر حق ہیں ، ایمان نہ لائے تو اس کا باعث بھی یہی حسد تھا۔ اور یہی حسد تھا جس کی بنیاد پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کردیا۔ گرہوں میںپھونکنے والیوں کے شر کے پیچھے بھی عموماً حسد ہی کا جذبہ چھپا ہو تا ہے، اس لیے ان کےشر کے بعد حاسد کے شر سے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی۔ حاسد کے شر سے کیسے بچیں: حاسد کے شراور شرارت سے بچنے کا ایک طریقہ تواللہ رب العالمین نے سورۃ فلق میں بتادیا ہے کہ انسان حاسد کےشر سے اللہ کی پناہ مانگے اس کے علاوہ بھی کچھ طریقے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں جو کہ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ سےمنقول ہیں۔ 1-اللہ پر کامل بھروسہ رکھا جائے کہ جب تک اللہ نہ چاہے گا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ 2-حاسد کی کڑوی کسیلی اور تلخ باتوں پر صبر کیا جائے اور اس کی ذہنی حالت پر افسوس کرتےہوئے اس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی سے مکمل گریزکریں۔ 3-تقویٰ کے زیور سے آراستہ رہیں۔ 4-حاسد کی فکر سے اپنے دل کو خالی رکھیں اوراس کے متعلق بالکل نہ سوچیں، اسے ایسے نظر انداز کریں کہ گویا وہ ہےہی نہیں۔ 5-حاسد کو اگر کسی معاملے میں آپ کی مددکی ضرورت پیش آئے تو دل کھول کر اس کا تعاون کریں(یہ سب سے عمدہ علاج ہے) 6-صدقہ وخیرات اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیںکیونکہ صدقہ وخیرات اور خدمت خلق