کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 32
کرنے سے اللہ تعالی انسان کی مشکلات دور کردیتا ہے۔ 7-عقیدہ توحید پر کاربند رہیں اور شرک و بدعت سے خود کو اور اپنے اہل خانہ کو بچائے رکھیں حسد کا علاج: حسدایک ایسی بیماری ہے کہ جس سے شاید ہی کوئی محفوظ ہو ، ہر انسان کے دل میں کسی سےمتعلق حاسدانہ خیالات جنم لیتے رہتے ہیں، بعض سلف کاقول ہے: ’’لایخلوجسد من حسد ولکن اللئیم یبدیہ والکریم یخفیہ‘‘  ’’کوئی جسم بھی حسد سےخالی نہیں صرف فرق یہ ہےکہ گھٹیا انسان (اپنی حرکتوں سے) اسے ظاہر کر دیتا ہے اور شریف آدمی اسے چھپا لیتا ہے‘‘ اگر کسی کے دل میں کسی کے بارے میں حسد جیسے برے خیالات ہیں اور وہ واقعی میں اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ مندرجہ ذیل دو باتوں کو حرز جاں بنالے اللہ کی رحمت سے بڑی امید ہےکہ یہ دو ضابطے اس کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کا باعث ہوں گے اور وہ بھی خوش وخرم زندگی گزارے گا۔ 1-قناعت کرنا سیکھیں اور اس بات پہ مکمل یقین رکھیں کہ اللہ تعالی نے جو ہمیں عطا کیا ہے وہ ہماری اوقات سے بڑھ کر ہے اور جو ہمیں نہیں دیا اس کا نہ ملنا ہی ہمارے حق میں بہتر ہے۔ 2-ایسا انسان جو حسد کی بیماری میں مبتلا ہے اسے چاہیے کہ وہ حسد کے گناہ اور نقصانات کے بارے میں مسلسل سوچے اور دیکھے کہ اس میںکہیں وہ یہودیوں کی مشابہت تو نہیںکر رہا؟ اور یہ بھی کہ حسد کرنا تو اللہ تعالی پر اعتراض ہےگویا حاسد زبان حال سے اللہ تعالی پر اعتراض کرتے ہوئے کہتاہے کہ اللہ کی تقسیم معاذ اللہ غلط ہےاور اس نعمت کا حقدار وہ انسان نہیں بلکہ میں ہوں۔