کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 39

ان صفات کا حامل نہ ہوا تو خدشہ ہے کہ معاملہ درست سمت میں جانے کی بجائےالٹا نقصان اٹھانا پڑجائے، کیونکہ اگرمعالج علم وعمل میں پختہ نہ ہوگاتو شیطان اگلی مرتبہ مزید قوت سے وار کرے گا۔ ذیل میں ان صفات کا مختصراً تذکرہ کیا جاتا ہے ۔ 1-علم 2-تجربہ 3-زہد وتقویٰ، 4-راز کی حفاظت، 5-نفسیاتی امراض کا علم۔ 6-مریض کی جسمانی قوت ، بدن کے طبیعی مزاج وعادات ، مختلف طرقِ علاج اور ان کے ردودِعمل وغیرہ سے بخوبی واقف ہو۔ 7-روحانی علاج کے سلسلے میں معالج کسی ایسے طریقہ علاج کو اختیار نہ کرے کہ جسے وہ مشکوک یا واضح طور پر حرام سمجھتاہو۔ 8-روحانی معالج علاج معالجہ کے دوران یا اس کے علاوہ عام حالات میںبذات خود جادو و جنات وغیرہ سے خوفزدہ نہ رہتاہو۔ 9-سلف صالحین کے عقیدے پر ہو۔ 10-بدعتی نہ ہو۔ 11-اپنے قول وعمل میں توحید خالص کو ثابت کرنے والا ہو۔ 12- علاج سے پہلے باوضو ہوجائے۔ اور اگر نماز کا وقت ہو تو پہلے نماز ادا کرے۔ 13- اپنا جسم اور لباس بھی ہر صورت پاک رکھے جادوکا بذریعہ جادو علاج؟ ضرورت مند انسان مجبور ہوتا ہے اور اپنی ضروت کی تکمیل کےلیے ہر قسم کا حربہ استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا۔ لیکن ایک مسلمان کے لیے لازمی اور ضروری ہےکہ اپنے مصائب کے حل کےلیے حلال اور جائز طریقے اختیار کرے، عام طور پر دیکھنے اور سننے میں آتاہے کہ لوگ جادو ٹونا کے علاج کے لئے نام نہاد پیروں، فقیروں اور جعلی عاملوںاور غیر مسلموں سےرابطہ کرتے ہیں۔ تجربے اور مشاہدے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس میںلوگوں کو صحت بھی ملی اور جادو وغیرہ سے نجات حاصل کر چکے ہیں لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل ناجائز اور حرام ہے لہٰذا جادو کا علاج بذیعہ جادو نہیں کرایا جاسکتاہے، سیدنا جابر  سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے’’ النشرہ‘‘ (جادوکا علاج بذریعہ جادو) کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((من عمل الشیطان))

  • فونٹ سائز:

    ب ب