کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 44

رشتوں کی بنیاد کیاہونی چاہیے؟ فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالستارحماد حفظہ اللہ الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ علی سیدالمرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین وبعد! اللہ تعالی نے اس عالم رنگ وبو میں انسان کوخودمختاربناکرپیداکیاہے،لیکن اس کے باوجود وہ ایک دوسرے سے تعلقات رکھنے پر مجبورہےکیونکہ اس پر دنیاکانظام قائم ہے،ارشادباری تعالیٰ ہے: [وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا ][الزخرف:32] ’’ہم نے کچھ لوگوں کودوسروں پرفوقیت بھی دی ہےتاکہ وہ ایک دوسرے سے خدمت بھی لے سکیں‘‘ چنانچہ ہم دیکھتےہیں کہ امیرکوغریب کی ضرورت ہے،وہ اس غریب کامحتاج ہےکہ اس کاکام کاج کرے اورغریب کوامیر کی ضرورت ہےکہ وہ اس کاکام کاج کرکے اپنےبچوں کےلیے روزی کمائے،اس طرح شاگردکواستادکی اوراستادکوشاگردکی ضرورت ہوتی ہے، الغرض اختلافِ صفات کے

  • فونٹ سائز:

    ب ب