کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 47

بایں الفاظ تبصرہ کرتےہیں: ’’ میں نے کسی دوسری عورت کے متعلق نہیں سناکہ اس کا مہر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنھاکےمہراسلام سے بہترہو،سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کےساتھ زندگی کے خوشگوار لمحات بسرکیے اوران سےان کے بچےبھی پیداہوئے۔ چونکہ یہ نکاح رنگ ونسل اوربرادری وخاندان سے بالاترہوکرصرف اسلام اوردینداری کی بنیاد پرہواتھا،اس لیے اللہ تعالیٰ نےسیدنا ابوطلحہ  کوبہت خیروبرکت سے نوازا،سیدنا انس کابیان ہے کہسیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ انصارمیں سب سے زیادہ مالدارتھے،اللہ تعالیٰ نے انہیں کھجوروں کےباغات سے نوازاتھا،ان کا ایک باغ جومسجدنبوی کےبالکل سامنے تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لےجاتے،وہاں تازہ کھجوریں تناول فرماتے،میٹھےچشموںکاٹھنڈاپانی نوش کرتےاوردرختوں کےگھنےسایہ میں محواستراحت ہوتےتھے۔ اس سلسلےمیں ایک دوسراواقعہ پیش خدمت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنےساتھیوں سے نہ صرف انتہائی محبت کرتےتھے بلکہ ان کی ضروریات کابھی خیال رکھتےتھے چنانچہسیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ ایک انصاری صحابی تھے جومالدارتھے نہ خوبصورت،ان کاکسی بڑے قبیلےسےتعلق تھانہ ہی کسی منصب پرفائزتھے،ان کی خوبی صرف یہ تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت کرتےتھے،ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتےہوئے ان سے فرمایا:’’ جلیبیب !تم شادی نہیں کروگے؟۔سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ جیسے شخص سے اپنی بیٹی کی شادی کون کرےگا؟میراحسن وجمال،مال ودولت اورکوئی جاہ ومنصب نہیں ،بلکہ ایک فقیر بےنوا ہوں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظراس کے دنیاوی معیارپرنہیں بلکہ اس کی دینداری اورتقویٰ شعاری پر تھی، آپ نے اس کی مایوسی کوخوشی میں تبدیل کرتے ہوئے فرمایا: جلیبیب! تم فکرنہ کرو،تمہاری شادی میں خود کروں گا،تم اللہ کے نزدیک بےقیمت نہیں ہو،تمہاری وہاں بڑی قدرومنزلت ہے‘‘۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ان سے فرمایا:جلیبیب ! تم فلاں انصاری کے گھرجاؤ،اسے میراسلام کہو اور میرا پیغام دوکہ وہ اپنی بیٹی کی شادی تجھ سے کردے،سیدنا جلیبیب خوشی خوشی اس انصاری کے گھر پہنچ جاتےہیں،دروازے پہ دستک دی،اہل خانہ پوچھتےہیں تم کون ہو؟سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ نے جوابا عرض کیا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کو سلام بھیجاہے، یہ سن کر انصاری صحابی خوشی سے پھولانہیں سماتاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سلام بھیجاہے،یہ تومیرےلیے خوش قسمتی کی بات ہے،پورے گھرمیں خوشی کی لہردوڑ گئی ،اس خوشی میں سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کواپنے گھر لےجاتےہیں،سیدنا جلیبیب نے اپنی بات مکمل کرتےہوئے کہا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں سلام کے ساتھ یہ پیغام بھی بھیجاہےکہ اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کردو‘‘،صاحبِ خانہ نے جب یہ بات سنی توسناٹے میں آگئے،کیایہ شخص میراداماد بنےگا؟اس کانہ مال ودولت نہ حسن وجمال ،نہ قدکاٹھ ،نہ حسب ونسب اورنہ منصب اورکاروبار !کہنےلگامیں اپنے گھروالوں سےمشورہ کرکےتمہیں جواب دیتاہوں،انہوں نے اپنی اہلیہ کوبلایااور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاپیغام سنایاکہ آپ فرماتےہیں کہ ’’ اپنی بیٹی کی شادی جلیبیب سے کردو‘‘ ۔ یہ حسنِ اتفاق تھاکہ ساتھ والے کمرے میں پسِ پردہ ان کی دخترِنیک اختر اپنے والدین کی گفتگوسن رہی تھی،انصاری کی اہلیہ نے کہاہم اپنی بیٹی کی شاد ی جلیبیب سے کیسے کردیں جبکہ وہ خوبصورت بھی نہیں،مال ودولت کی ریل پیل بھی نہیں، بڑاخاندان بھی نہیں،اورکسی منصب پرفائزبھی نہیں،ہم نے فلاں فلاں خاندان کی طرف سے آنے والوں کومستردکردیاہے،میاں بیوی دونوں اس قسم کی گفتگو کررہے تھے، بیٹی بھی پردےکےپیچھے کھڑی گفتگوسن رہی تھی اوراس ماجرےکامشاہدہ کررہی تھی جب سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ مایوس ہوکرواپس جانے لگےتولڑکی نے معاملے کی نزاکت کااحساس کرتےہوئے اپنے والدین سے مخاطب ہوکرآہستہ کہا:’’ کیاتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاحکم ٹالنےکےلیے سوچ وبچارکررہےہو، آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپردکردیں، وہ جہاں چاہیں اپنی مرضی سے میری شادی کردیں،وہ مجھے ہرگزضائع نہیں کریں گے‘‘۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب