کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 57

کی آگ سے نجات حاصل کی جائے،او رحصولِ تقویٰ کےبعد شیاطین کے مکروفریب سے اپنے آپ کومحفوظ رکھاجائے۔اس مضمون میں اس ماہ مقدس کےحوالے کچھ مسائل واحکام بیان کرنےکی کوشش کی جائےگی۔ ان شاءاللہ العزیز۔ (1)دروزے کامعنی: عربی زبان میں روزےکو ’’صوم‘‘ کہاجاتاہے،جس کے لغوی معنی ’’ رک جانے‘‘کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں اس کامطلب ہے: ’’ طلوع فجرسےلےکر غروبِ آفتاب تک ثواب کی نیت کےساتھ ان تمام چیزوں سے اجتناب کرناجن کےارتکاب سے روزہ ٹوٹ جاتاہے‘‘ (2)روزہ کے ارکان: اس کے تین رکن ہیں1نیت کے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیںاورفرض روزہ کےلیے طلوع فجرسے قبل نیت ضروری ہے جیساکہ حدیث میں ہے: ’’ من لم یجمع النیۃ قبل الفجرفلاصیام لہ ‘‘ ’’جس نے فجرسے پہلے روزہ کی نیت نہیں کی اس کا روزہ ہی نہیں۔‘‘ نفلی روزہ کےلیے کسی بھی وقت نیت کی جاسکتی ہے بشرطیکہ خلافِ روزہ کوئی کام نہ کیاہو نیز نیت دل کاعمل ہے روزے کےلیے زبان سے نیت کرناشرعاً ثابت نہیں ہے۔ 2 روزہ کوتوڑدینےوالے امورسے اجتناب کرنا۔ 3روزہ کےلیے بیان کردہ وقت(طلوعِ فجرسے لےکرغروبِ آفتاب)کی پابندی نہایت ضروری ہے۔ (3) روزہ کن پر فرض ہے؟: ہر اس شخص پر فرض ہے جس میں یہ شرائط پائی جاتی ہوں :مسلمان ہو،مکلّف ہو،روزہ رکھنےکی

  • فونٹ سائز:

    ب ب