کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 68

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آخری عشرے میں یہی معمول ہوتاتھا جیساکہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی الله عنها فرماتی ہیں کہ ’’ کان رسول ﷺ إذادخل العشرالأواخرمن رمضان أحیالیلہ،وأیقظ أھلہ، وجدّ وشدّ مئزرہ۔‘‘ ’’جب رمضان کاآخری عشرہ آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم شب بیداری کرتے اپنےگھروالوں کوجگاتے خوب محنت کرتے اورکمرکس لیتےتھے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بابرکت رات میں پڑھنے کےلیے یہ دعاسکھائی ہے: ’’ اللھم إنک عفو تحب العفو فاعف عنی۔‘‘ ’’ اے اللہ!بے شک تومعاف کرنے والا معافی کوپسندکرنےوالاہے مجھے معاف کردے‘‘ ہمارے ہاںاس رات کے حوالےسے جتنے بھی غیر مسنون امور رائج ہیں ان سے اجتناب کرتے ہوئے ان مبارک ساعات کوقیمتی جانتےہوئے انفرادی طورپرعبادات میں صرف کرناچاہیے، نہ کہ ان اوقات کوکھانے پینے کے امورمیں ضائع کرناچاہیے۔ صدقۃ الفطرکے مسائل یہ وہ صدقہ ہے جورمضان المبارک کے اختتام پراداکیاجاتاہے اس کی مشروعیت کی بہت سی حکمتیں ہیں،روزوں میں ہونے والی کمی کوتاہیوں کودورکرتاہے۔فقرا مساکین کی عیدکی خوشیوں کاسبب بنتاہے روزوں کے اختتام پر اللہ پاک کے شکرکااظہارہے۔ صدقۃ الفطر فرض ہے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرمسلمان آزاد ،غلام، مرد،عورت ہرچھوٹے بڑے پر فرض قرار دیا ہےجوکہ ایک صاع کھجوروں گندم یاجووغیرہ سے ادا کیا جاتاہے۔ ایک صاع تقریبا اڑھائی کلو بنتاہے،جنس سے اداکرنازیادہ افضل ہے جیساکہ محولہ بالا حدیث میں مذکورہے،صدقۃ الفطر میںفقراء کی ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے غلہ کی بجائے نقدی، پیسے دینا بھی جائز ہے، حدیث میں ہے:’’أغنوھم في هذا الیوم‘یعنی اِس دن فقراء کو بے پرواہ کر دو،اِس حدیث کےلفظ ’’أغنوھم‘‘ سے نقدی کے دینے کی گنجائش نکلتی ہے کہ مساکین کی ضروریات کے مطابق غلہ کے حساب سے نقدی بھی دی جاسکتی ہے۔ و اللہ اعلم۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب