کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 77
صدقۃ الفطر، زکوۃ ،عشر ،رکاز اور علم وراثت کے مستقل نصاب یہ سب کے سب اس فن کے متقاضی ہیں، تویہ کیسے ہوسکتا ہے ،اسلام ان کا حکم تو دے مگر اس کے کامل طور پر ادائیگی کے لئے حساب کتاب (calculation) کی ترغیب نہ دلائے، یہی وجہ ہے کہ ایک جنگ کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے مقابلے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا کہ ان قیدیوں سے فدیہ لے کر اور ان کے پڑھے لکھے لوگ، ہمارے ان پڑھ افراد کو پڑھا ئیں اور پھر انہیں آزاد کردیا جائے۔ بہرحال اس واقعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس حوالے سے خصوصی شغف رکھنا ثابت ہوا،اور ساتھ یہ بھی واضح ہواکہ اس کے سیکھنے، سکھانے کے لئے کوئی جگہوں کی تقسیم نہیں کی گئی کہ یہاں دینی علم اوروہاںدنیاوی علم ہو۔ (5)وکالت : آج حالت یہ ہے کہ وکالت کے حوالے سے مختلف کالجز اوریونیورسٹیاں قائم ہیں ،اور ان یونیورسٹیز میں جو قوانین پڑھائے جارہے ہیں ،اغیار سے ماخوذ ہیں،اس علم کو بھی مدرسے سے علیحدہ سمجھا جاتا ہے، جس کامطلب بظاہر یہ ہے کہ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ،جبکہ وکالت اور قضاء کے جو قوانین اور ضابطے اسلام نے مقرر کئے ہیں کسی اور نظام میں یہ امتیاز نظر نہیں آتا، جس کی تفصیل کو کسی اور موقع کے حوالے کئے دیتے ہیں ،یہاں ہم اس جانب توجہ دلارہے ہیں کہ اسلامی ملک میں یہ فیکلٹی(Faculty) تو مدرسے کے حصے میں آنی چاہئے،جہاں بالتفصیل اسلامی نقطۂ نظر سے قضاء پر بات ہوتی ہے، مگر کوئی مدرسہ سے فارغ التحصیل طالب علم اس حیثیت کو پالے یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، بلکہ اسے علیحدہ سے یہ پروفیشنل ڈگری حاصل کرنی پڑے گی ، اور مدرسے کو یہ حیثیت دے دی جائے ، یہ ہمارے معاشرے میں نہیں ہوسکتا۔ میرا اس ذہن کے لوگوں سے سوال ہے کہ تاریخِ اسلام پر نظر ڈالئے کہ کہیں یہ بات موجود ہے کہ فلاں قاضی (جج) فلاں عصری یونیورسٹی سے سرٹیفائیڈ ہے؟کہیں بھی ایسا نہیں ملے گا ،ملے گا تو یہی فلاں قاضی صحابی، فلاں تابعی، اور فلاں قاضی فلاں امام کے شاگرد تھے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ قضاء کے لئے اسلام کے شرائط کچھ اورہیں، جس میں اول یہی ہے کہ دین داری اور دینی علوم میں مہارت۔لیکن ہمارے اس اسلامی ملک میں قضاء کے لئے نہ ہی دین ضروری ہے، اور نہ ہی دین داری بلکہ ضروری ہے تو بس قانون (Law) کی کسی پروفیشنل یونیورسٹی کی ڈگری۔ اور ظاہر سی بات ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان وکلاء نے جن قوانین کی بالادستی کی بات کرنی ہے، ان تمام پر اسلام کی مہر ثبت نہیں ہے۔ جب اسلام اور وکالت و قضاء دو علیحدہ چیزیں نہیں تو عملی طور پر ان دونوں کو علیحدہ کیوں سمجھا جا رہاہے؟ وکیل و جج کے لئے بجائے اس کے کہ کسی مدرسے سے سرٹیفائیڈہونا ضروری قرار دیا جاتا ،الٹا مدرسہ میں پڑھائے جانے والے اسلامی قوانین کے ماہر عالم کو حقارت سے دیکھا جاتا ہےجو اسلامی نقطۂ نظر سے یہ صلاحیت (Ability) رکھتا ہے کہ اسے قاضی (Judge) ہونا چاہئے تھا، یہ تقسیم اور پھر ایسی تقسیم جوکہ ظلم پر مبنی ہے، جس میں اسلامی علوم کے ماہر عالم دین کو مکمل طور پر اپنے شایان شان اعزاز سے محروم کردیا جاتاہے۔لہذا اسے اسلامی علوم کی ایک شاخ سمجھنا چاہئے،اور اسلامی ملک ہونے کی حیثیت سے اس میں اسلامی قوانین کا ہی نفاذ ہونا چاہئے،جوکہ موجودہ صورت حال جو تحصیلِ ڈگری کی ہی بنادی گئی ہے، اس صورت حال میں اسلامی قوانین کےنفاذ کا راستہ یوں سمجھ لیں کہ اصل جڑ سے ہی مسدود ہے۔آئیے ہم دلائل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ قضاء و قانون دراصل اسلامی علوم کی ہی ایک شاخ ہے۔