کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 78
ہر نبی اپنے دور کا قاضی بھی تھا: سیدنا داؤد علیہ السلام قاضی تھے، ان کے فیصلوں کی مثال قرآن مجید میں موجود ہے: {یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۭاِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ 26؀ۧ ][ص:26] ترجمہ: (ہم نے ان سے کہا) اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہٰذا لوگوں میں انصاف سے فیصلہ کرنا اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرنا ور نہ یہ بات تمہیں اللہ کی راہ سے بہکا