کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 80
آچکی ہے۔ بلکہ خلفاء راشدین کے فیصلوں پر مشتمل کتاب بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ اسی طرح مسلمان قاضیوں کے تذکروں پر مشتمل کتب بھی لائبریریوں کی زینت ہیں،جیسا کہ اخبار القضاۃ ، کتاب الولاة وکتاب القضاة للکندی(المتوفی: بعد 355ہـ)،تاریخ قضاة الأندلس (المرقبة العلیا فیمن یستحق القضاء والفتیا)اس کے مؤلف، أبو الحسن علی بن عبد اللہ بن محمد بن محمد ابن الحسن الجذامی النباہی المالقی الأندلسی (المتوفی: نحو 792ہـ)، رفع الإصر عن قضاة مصر،اس کے مؤلف، أبو الفضل أحمد بن علی بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلانی (المتوفی: 852ہـ)وغیرہ قضاۃ کے حوالے سے لکھی گئی کتب ہیں۔ بہرحال آج اس علم قضاء کو بھی دنیاوی علوم کی یونیورسٹیز کی رونق بنادیا گیا حالانکہ شروع ہی سے اہل اسلام اس سے وابستہ ہیں اور دین اسلام کا حصہ ہے۔ اور مدارس میں بھی کتب الحدیث اور کتب الفقہ کے ضمن میں اس موضوع کو بالتفصیل پڑھا پڑھایا جاتا ہے۔ (6)سائنسی علوم اور اسلام : سائنسی علوم اور اسلام کا باہم بڑا گہرا تعلق ہے، اور اسلام سائنسی علوم کو بھی بیان کرتا ہے، قرآن مجید ،احادیث میں سائنسی علوم سے متعلق نصوص موجود ہیں اور سلف صالحین کا بھی ان علوم کے ساتھ شغف رکھنا ثابت ہے۔ لہذا ہم ان علوم کے بارے میں بھی یہی کہیں گے کہ سلف کو ان علوم سے وابستگی کے لئے علیحدہ سے یونیورسٹیاں قائم نہیں کرنا پڑیں کیونکہ انہوں نے قطعاً کلی طور پر اسے اسلام سے علیحدہ نہ جانا تھا۔قرآن اور سائنسی علوم کا باہم براہ راست جو تعلق ہے اس کے اثبات کے لئے ذیل میں چند ایک نصوص پیش کئے دیتے ہیں۔ (1)نباتیات: نباتیات ،بائیولوجی کی ایک شاخ ہے جس کا تعلق پودوں ،ان کی ساخت و حیات سے ہے۔ قرآن مجید میں بھی نباتات کو بیان کیا گیا ہے،مثلاًسورۂ طہ: 53 ، سورۃ الرعد: 4 ، سورۃ الانعام: 96