کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 85

کہا جاتا ہے۔کیمیا کے حوالے سے مختلف قسم کے تجربوں کے طریقے ایجاد کئے۔ کچھ دیگر مسلمان سائنسدانوں کے نام : البطانی جوکہ عرب ریاضی دان تھے۔ ابن زہر جوکہ عرب طبعیات کے ماہرتھے۔ ثابت ابن قراء جوکہ عرب ریاضی دان تھے۔اور ماہر طبیعیات ، ماہر فلکیات،اور اسٹیٹس کے بھی فاؤنڈر ہیں۔ جابر بن حیان: پہلے عرب کیمیا دان ہیں۔ اسی طرح ابن رشد،محمد ابن موسیٰ الخوارزمی،عمر خیام اور ابن اسحاق الکندی وغیرہ کے نام آتے ہیں۔ بہرحال اس تمام تر بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ یہ علوم و فنون اور اسلام دو چیزوں کانام نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلاف میں سے انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و دیگر سلف صالحین ان علوم سے وابستہ رہے ہیں اور ان ادوار میں دین و دنیا کو اس طرح سے قطعاً دو نظروں سے نہیں دیکھا جاتا تھا، بلکہ ایک ہی چھت تلے ایک ہی قسم کامعلم ومدرس دونوں قسم کے علوم پر کامل دسترس رکھتا تھا۔ ہمارے ان سات نکات سے واضح ہوگیا کہ اوائل زمانہ میں مروجہ تقسیم نہ تھی، بلکہ مسلمان دینیات پر کاربند رہنے کے ساتھ ساتھ ان علوم و فنون میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ جس سے یہ واضح ہے کہ اس طرح کی کوئی تقسیم نہ تھی، بلکہ برصغیر میں ایک عرصے تک اسکول کے لئے مدرسہ کا لفظ استعمال کیا جاتا رہا ہے، جو اس بات کی بین دلیل ہے کہ اس سے پہلے تک مروجہ تقسیم موجود نہ تھی، بہرحال رفتہ جیسے جیسے ہندوؤں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی یورپ سے روابط بڑھانے اور میڈ ان یورپ (Made In Europe)والی ترقی کو ترجیح دینا شروع کی بس یہیں سے خطِ امتیاز شروع ہوا، جس نے مسلمانوں کو دو قسم کی سوچوں میں بانٹ دیا ، ایک وہ جو جدیدیت کی ترویج چاہتے تھے، اور میڈ ان یورپ ترقی سے متاثر تھے، اور دوسرے وہ جنہوں نے

  • فونٹ سائز:

    ب ب