کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 91
وجہ ہے کہ سیدناحسن رضی اللہ عنہ کے بیٹے حسن المثنیٰ کو بھی اپناامام قراردیتےہیں ،اس وجہ سے ان کے پاس ’’ حسنی علوم‘‘ کے ذخائرعلم بھی محفوظ ہیں۔ جہاں تک امامت کامعاملہ ہے زیدی رافضیوں کی طرح ائمہ اہل بیت کو معصوم نہیں مانتےبلکہ ان کو علم کاامام سمجھ کران کی عزت واحترام کرتےہیں۔ زیدی امام حسن کے لاولد اور امام مہدی کی ولادت کے قائل نہیں ہیں۔زیدی حسنین کریمین کی نسل سے آنے والے تمام ائمہ کو امام مہدی کادرجہ دیتےہیں۔ زیدی ،اہل سنت کی طرح اگرچہ توحید،نبوت،امامت،عدل اورمعادکے قائل ہیں لیکن رافضیوں سے اختلاف کرتےہوئے ائمہ کو معصوم نہیں تسلیم کرتےاور نہ ہی سلسلہ امامت کو محدود کرتےہیں بلکہ ان کے ہاں سلسلہ امامت تا قیامت جاری وساری رہےگا، ان(زیدیوں)کے ہاں نابالغ شخص امام نہیں بن سکتا،اصحاب کساءکونصوص قرآنی اور دیگرروایات کی بنیاد پر معصوم جانتےہیں برعکس دیگرائمہ کے۔ زیدیوں کاکلمہ اہل سنت کےکلمہ کےمطابق ہے اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہے یعنی ’’ لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ‘‘ یہ لوگ کسی کلمہ گو مسلمان کی تکفیرنہیں کرتے،زیدی شیعہ وضومیں اہل سنت کی طرح پاؤں کودھوتےہیں کیونکہ امام زیدکی فقہی تعلیم بھی یہی ہے،اوراس بارے میں دیگرائمہ اہل بیت کی روایات معتبر سند کے ساتھ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔ زیدی شیعہ رافضیوں کے برعکس نمازوں کوجمع نہیں کرتےبلکہ اپنےمقررہ پانچ اوقات میں اداکرتےہیں،ان کےہاں الگ الگ پانچ وقت کی اذان ہوتی ہے،اور اذان کے الفاظ بھی اہل سنت کی اذان کی طرح ہیں اس میں وہ اضافے نہیں جورافضیوں کی اذان میں پائے جاتےہیں،کیونکہ زیدی کتب فقہ میں یہی اہل سنت والےاذان کے الفاظ واردہیں۔ زیدی شیعہ کےنزیک جمع بین الصلاتین جائزہے،لیکن الگ الگ اپنے وقت میں پڑھنے کو افضل