کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 10
(المتوفی۲۲۰ھ)ہے۔ ہشام بن عمرو الفوطی کا تعارف: یہ تیسری صدی ہجری کا شخص ہے جس کا شمار معتزلہ کے رؤساء میں ہوتا ہے۔یہ کوفی تھا اور بنوشیبان کا مولی تھا۔  امام ذہبی رحمہ اللہ اس کےبارے میں فرماتے ہیں: ’’ صاحب ذکاء وجدال وبدعۃ ووبال‘ ’’ بڑےحافظے والا، جدل کرنے والا، بدعتی اور وبال والا شخص تھا۔‘‘ حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں: "کان من اصحاب ابی الھذیل و کان داعیۃ الی الاعتزال" ’’ ابو ہذیل کے اصحاب میں سے تھا اورمذہب ِاعتزال کا داعی تھا۔ ‘‘ امام ذہبی رحمہ اللہ نے سیر اعلام النبلاء میں عون بن سلام کے ترجمہ میں تیسری صدی کے رؤساءِ معتزلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے چند ایک نام بتلائے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے، جو نام ذکر کئے وہ یہ ہیں: بشر بن غیاث المریسی العدوی مولی آل زید بن الخطاب، ابو سہل بشر بن المعتمر الکوفی الابرص (کبار معتزلہ میں سے ہے اور معتزلی مصنفین میں سے ہے)، ابو معن ثمامۃ بن اشرس النمیری البصری، ابو الہذ یل محمد بن الہذیل العلاف البصری، ابو اسحاق ابراہیم بن سیار البصری النظام، ہشام بن الحکم الکوفی الرافضی المجسم ،ضرار بن عمرو (جس کی طرف ضراریۃ فرقہ منسوب ہے)، ابو المعتمرمعمر بن عباد(بعض نے اس کا نام معمر بن عمرو البصری العطار بتایا ہے۔)،ہشام بن عمرو الفوطی، داود الجواربی ،ولید بن ابان الکرابیسی،ابن کیسان الاصم، وابو موسی الفراء البغدادی ،ابو موسی البصری جس کا لقب المردازہے، جعفر بن حرب ،جعفر بن مبشرو دیگر۔