کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 100

گاڑی کی ایجاد کے بعد انسان کو ایک ایسے نظام کی ضرورت پیش آئی جو ٹریفک کو رواں رکھنے میں مدد فراہم کرے اور نقصان کی صورت میں ضامن کا تعین کرے ۔چنانچہ انسان نے نظام ٹریفک متعارف کروایا۔ ذیل میں ہم ٹریفک کے نظام کی اہمیت و افادیت پر بحث کریں گے نیزہم اس نظام کو شریعت کے اصولوں پر بھی پرکھیں گے کہ کیا مسلمان شرعا اس نظام کا پابندہے یا نہیں !؟اور اگر ہے تو کس حد تک؟ نظامِ ٹریفک وقت کی اہم ضرورت: دور حاضر میں نقل و حمل کے لئے گاڑی کا استعمال ناگزیر ہے۔ لیکن افسوس کچھ لوگ اس کا غلط استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرےمیں بسنے والے دیگر افراد کی زندگی میں حرج واقع ہوتاہے ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ ایک ایسا نظام بنایا جائے جو ٹریفک کو منظم کرے اور اس حوالے سے ہونے والی کسی بھی قانونی مخالفت پر گرفت کی جاسکے۔ چونکہ گاڑی ایک مشین ہےجو مکمل طور پر چلانے والے کےتابع ہوتی ہے۔اس لئے تمام تر ذمہ داری ڈرائیور پرعائد ہوتی ہے کہ وہ اس مشین کا صحیح استعمال کرے۔ کیونکہ اس کے غلط استعمال میں انسانی جان کے ضیاع کا خدشہ بھی ہے اس لئے بھی ایک ایسے نظام کی ضرورت تھی جو انسانی جان کے ضیاع کے اس خدشہ کو کم سے کم کردے۔یہ چونکہ نظام حکومت کی طرف سے عوام پر نافذ کیا جاتا ہے اس لئے اس نظام کوبناتے وقت مصلحت عامہ کو مدنظر رکھا جاتاہے۔ اور حاکم ِوقت کے واجبات میں سے ایک واجب یہ بھی ہے کہ وہ اپنی رعایا کی جان ومال کی حفاظت کا خیال رکھے۔ حکومت کے نافذ کردہ نظام میں حاکم کی اطاعت: حاکم کی اطاعت ہر مسلمان پر واجب ہے۔ حاکم اپنی حکومت چلانے کے لئے کچھ قوانین کا اجراء کرتا ہے ان میں سے ایک نظامِ ٹریفک بھی ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: [يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ] ( النساء: 95) ’’اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالی کی اور فرمانبرداری کرو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی

  • فونٹ سائز:

    ب ب