کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 101

اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ ابن العربی رحمہ اللہ اطاعت کی تعریف میں فرماتے ہیں کہ’’ اطاعت کا معنی ہے کہ جو حکم دیا جائے اس پر عمل کیا جائے اور مذکورہ آیت کی تفسیر میں اولی الامر سے مراد علماء اور حکام ہیں‘‘۔  اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نظامِ ٹریفک پر عملدرآمد کرنا حاکم کی اطاعت میں سے ہے۔ حاکم نے یہ نظام کسی ایک فرد کی مصلحت کے لئے نہیں بلکہ مفاد عامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا ہے۔ اور اس نظام پر عمل کرنے سے جان و مال دونوں محفوظ رہتے ہیںجبکہ ا س کی مخالفت سے نا صرف لوگوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے بلکہ بسا اوقات انسان خود اپنی جان کی ہلاکت کا باعث بھی بنتا ہے جو کہ حرام ہے۔ اس سلسلے میں مجمع الفقہ الاسلامی نے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا ہے کہ’’ ایسےقوانین جو کہ شرعی احکامات سے متصادم نہ ہوں ان پر عمل کرنا واجب ہے۔ اس کی دلیل مصالح مرسلہ ہیں۔ چونکہ یہ قوانین حاکم کی طرف سے نافذ کیے جاتے ہیںاس لئے ان قوانین کے نفاذمیں مصالح عامہ کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔جبکہ ان کی مخالفت کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جاتا ہے کیونکہ مخالفت کی وجہ سے دوسرے لوگوں کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اور یہ حاکم کے واجبات میں سے ہے کہ وہ اپنی رعایا کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے‘‘۔  ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہونے والے حادثات: اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نظام ِٹریفک کی خلاف ورزی سے بے شمار دردناک حادثات ہوتے ہیں جن میں لوگوں کی جان اور مال ضائع ہو جاتا ہے۔ ذیل میں ہم ان خلاف ورزیوں کو مختصرا پیش کرتے ہیں۔ حد رفتار سے تجاوز: کوئی ڈرائیور خود اپنے لئے حد رفتار مقرر کرے یہ ممکن نہیں کیونکہ یہ چیزراستے کی وسعت اور تنگی پر انحصار کرتی ہے بلکہ ہر گاڑی کی حد رفتار مختلف ہوتی ہے۔ اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو حد رفتار حکومت کی طرف سے مقرر کی جائے اس سے تجاوز نہ کیا جائے۔ اور اسی میں عوام کا فائدہ ہے جبکہ حدرفتار سے تجاوز کی صورت میں انسان اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے بھی خطرے کا باعث بنتا ہے۔ اور پھر ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان بھی ہے کہ :’’ جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے‘‘۔ ہم پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں کہ حاکم کی اطاعت کرنا واجب ہے تو رفتار کے معاملہ میں بھی یہی قاعدہ ملحوظِ خاطر رہے گا۔ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ’’جلد بازی شیطان سے ہے کیونکہ یہ انسان میں طیش پیدا کرتی ہے اور اسکو وقار پر قائم رہنے سے روکتی ہے اور انسان کو ظلم پر اکساتی ہے اور برائی کو جنم دیتی ہے اور خیر سے روکتی ہے۔اور عجلت دو مذموم چیزوں سے پیدا ہوتی ہے، غفلت اور وقت سے پہلے حصول کی خواہش کرنا۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب