کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 108

’’تمہارے خون اور مال تم پر ایسے حرام ہیں جیسا کہ یہ دن ( یعنی حج کا دن)۔ ‘‘ جان اور مال کی حفاظت ان پانچ بنیادی ضروریات میں سے ہے جن کی اسلام نے ہر حال میں حفاظت کی ہے ۔ اورانہیں ہرطرح کے خطرے سے محفوظ کیا ہے۔ اور انسانی نفس کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لئے دیت مقرر فرمائی ہے۔ جبکہ مالی نقصانات کے ازالے کے لئے ہرجانہ مقرر فرما کر نفس اور مال کی حفاظت فرمائی۔ پس دوسروںکو جانی اور مالی نقصان پہنچانا حرام ہے اور اس کی حرمت قرآن اور سنت سے ثابت ہے۔ ضمانت اور ضامن کے لئے مقرر کردہ شرعی قواعد: ۱: نقصان کو روکنے اور اسکے ازالے کے لئے قواعد عامہ ۲: نقصان اور ضامن کے تعین لئے خصوصی قواعد نقصان کو روکنے اور اسکے ازالے کے لیے قواعد عامہ: قاعدہ نمبر1:لاضرر ولاضرار:( نہ کسی کو ابتداءً نقصان پہنچایا جائے اور نہ بدلے میں ) یہ قاعدہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نقصان کے مقابلہ میں نقصان کرنا جائز نہیں سوائےحدودو قصاص کے۔ اور جس کا نقصان ہوا ہے وہ اگر چاہے تو معاف کردے یا نقصان کا ہرجانہ وصول کرلے۔ پس جس کی گاڑی کو ٹکر لگی ہےاس کے مالک کو چاہیے کہ وہ یا توٹکر مارنے والی گاڑی کے مالک سے نقصان کا ہرجانہ لے ، یا اسے معاف کردے۔ جس گاڑی کو ٹکر لگی ہے اس کےمالک کے لیے یہ جائز نہیں کہ اپنی گاڑی سے دوسرے فریق کی گاڑی کو ٹکر مار کر بدلہ لے کیونکہ شریعت میں جان بوجھ کر نقصان نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ 

  • فونٹ سائز:

    ب ب