کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 109
قاعدہ نمبر 2: الضرر یزال( نقصان کا ازالہ کیا جائے گا ) حقوقِ خاصہ کےباب میں اس قاعدہ کی تطبیق ایسے کی جا سکتی ہے کہ جس گاڑی والے نے اپنی گاڑی دوسرے کی گاڑی سےٹکرائی ہے وہ اس دوسرے متاثرہ شخص کے نقصان کا ازالہ کرے گا۔ قاعدہ نمبر 3: المرور فی الطریق مباح بشرط السلامۃ فیما یمکن الاحتراز عنہ۔ یہ قاعدہ فقہاء کے نزدیک متفق ہے۔ اور اس قاعدے کے تحت سڑک سے استفادہ حاصل کرنا ہر انسان کا حق ہے چاہے وہ پیدل ہو یا سواری پر ہولیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے لیے ضرر کا باعث نہ ہو۔ لیکن اگر وہ اس شرط کی مخالفت کرتا ہے تو وہ گنہگار ہوگا اور اسکے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا ذمہ دار بھی وہی شخص ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إیاکم والجلوس بالطرقات فقالوا یا رسول اللّٰہ ما لنا من مجالسنا بد نتحدث فیہا قال فإذا أبیتم إلا المجلس فأعطوا الطریق حقہ . قالوا وما حق الطریق یا رسول اللّٰہ قال غض البصر وکف الأذی ورد السلام والأمر بالمعروف والنہی عن المنکر‘‘ ’’ راستوں میں بیٹھنے سے اجتناب کرو۔ یہ سن کر بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہمارے لئے راستوں میں بیٹھنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں ہے جہاں ہم باتیں کرتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جب تمہارے پاس مجبوری کی بناء پر بیٹھنے کے علاوہ کوئی دوسری صورت نہیں تو پھر اس کا حق ادا کرو۔ یعنی اگر ایسی صورت ہو کہ راستے میں بیٹھنے سے اجتناب کرنا تمہارے لئے ممکن نہ ہو اور تمہیں ایسی جگہ بیٹھنا پڑے جو راستہ پر واقع ہو تو راستے کا حق ادا کرو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) راستے کا کیا حق ہے؟