کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 11
بہرحال سابق الذکرامام ذہبی اور ابن حجررحمہماللہ کی ان عبارات سے ہشام بن عمرو الفوطی کے بارے میں کی گئی جرح سامنے آگئی۔ ہشام بن عمرو الفوطی کی طرف پھر ایک فرقہ بھی منسوب ہوا جس کا نام ہشامیہ ہے۔ جوکہ معتزلہ کے فرقوں میں شمار ہوتا ہے۔ تنبیہ: صاحب الوافی بالوفیات نے ہشامیہ نام کے تین فرقوں کی نشاندہی کی ہے، ایک ہشام بن الحکم الکوفی الرافضی کی طرف منسوب ہے، اور ایک ہشام بن سالم الجوالیقی کی طرف اور تیسرا ہشام بن عمرو الفوطی کی طرف منسوب ہے۔ بہرحال اسی شخص نے یہ عقیدہ اختیار کیا کہ جنت و جہنم ابھی موجود نہیں ،چنانچہ صاحب الملل والنحل لکھتے ہیں: "من بدعہ أن الجنۃ والنار لیستا مخلوقتین الآن، إذ لا فائدۃ فی وجودھما وھما جمیعا خالیتان ممن ینتفع ویتضرر بہما. وبقیت ھذہ المسألۃ منہ اعتقادا للمعتزلۃ" ’’اس کی بدعتوں میں سے ہے کہ (وہ کہتا تھا )جنت و جہنم ابھی پیدا نہیں کی گئیں، کیونکہ ابھی ان کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ دونوں خالی ہیں جن کو انہوں نے فائدہ یا نقصان پہنچانا ہے۔ ‘‘ صاحب الوافی بالوفیات فرماتے ہیں: "رأس الہشامیۃ المعتزلۃ ھشام بن عمرو رأس الہشامیۃ وھو فرقۃ من المعتزلۃ کبیرھم ھذا ھشام الفوطی زاد علی أصحابہ المعتزلۃ ببدعۃ ابتدعہا منہا أنہ قال الجنۃ و النار لیستا مخلوقتین الآن ومنہ نشأ اعتقادا لمعتزلۃ المتأخرین فی نفی خلق الجنۃ والنار ومن أصحابہ أبو بکر الأصم وافقہ فی کل ذلک" {