کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 111

دئیےہیں ‘‘۔ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ’’ اس حدیث میں ناسی( بھول جانے والے) اور مخطی(غلطی کرنے والے) پر گناہ اس لیے نہیں کہ ان کی نیت نقصان پہنچانے کی نہیں تھی‘ ابن غانم البغدادی فرماتے ہیں کہ’’ نقصان کرنے والا ضامن ہوگا چاہے وہ بلا قصد ہی نقصان کا مرتکب کیوں نہ ہوا ہو‘‘۔ نقصان کرنے والے کا ضامن ہونے میں عمد کی شرط ہونا لازم نہیں چاہے اس کا عمل اصلاً ممنوع ہویا وہ حکومت کی طرف سے ممنوع قرار دیا گیا ہو جیسا کہ تیز رفتاری یا سرخ اشارے پر گاڑی نہ روکنا وغیرہ۔ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ مباشر(یعنی نقصان کرنے والا) ہر حال میں ضامن ہوگا تو یہاں یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ مباشر کا صحیح مفہوم کیا ہے ۔ فقھاء نے مباشر کی تعریف یوں کی ہے کہ: ’’مباشر وہ شخص ہے جو نقصان میں براہ راست ملوث ہو ‘‘۔ اور مباشر میں مکلف ہونے کی شرط نہیں ہے مثلا اگر کوئی نابالغ بچہ گاڑی چلا رہا ہو اور اس سے حادثہ ہو جائے تو ایسی صورت میں تمام تر ذمہ داری اس بچہ پر عائد کی جائے گی۔ جیسا کی زھری اور قتادہ رحمہمااللہ نے فرمایاکہ ـ: ’’ مضت السنۃ ان عمد الصبی والمجنون خطأ‘ ’’ سلف میں یہ سنت جاری رہی ہے کہ بچے اور پاگل کا عمداًکام بھی غلطی اور خطا میں شمار ہوگا‘‘۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کی حادثہ کی صورت میں جانچ پڑتال بہت احتیاط سے کرنی چاہیے تاکہ طرفین میں سے کسی پر بھی ظلم نہ ہو۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب