کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 114

چنانچہ جمہور علمائے کرام کے ہاں زیورات کی شکل میں سونے چاندی کو استعمال کرنے پر یہ ایسے مال سے خارج ہو جاتے ہیں جن پر زکوٰۃ لاگو ہوتی ہے۔ کیونکہ زیورات میں اضافے کا امکان نہیں ہوتا۔ جبکہ احناف اس بات کے قائل ہیں کہ زیب و زینت کےلیے زیورات استعمال کرنا زکوٰۃ کے واجب ہونے میں رکاوٹ نہیں ہے، انہوں نے اپنے اس موقف کےلیے اصل کو دلیل بنایا ہے اور اسی طرح احادیث بھی ان کی تائید کرتی ہیں۔ دوم: سونے چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ سے متعلق علمائے کرام کے مابین اختلاف تین شرائط کو مدنظر رکھ کے سمجھنا چاہیے، جو کہ درج ذیل ہیں: 1 ’’زیور سونے یا چاندی سے بنا ہوا ہو‘‘ چنانچہ اگر زیور کسی اور چیز سے بنا ہوا ہے تو اس میں بالاجماع زکوٰۃ نہیں ہوگی۔ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’اگر جواہرت، یاقوت وغیرہ کے زیور بنے ہوئے ہوں اور ان میں سونا یا چاندی استعمال نہ کیا گیا ہو تو بالاجماع اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی‘‘ اسی طرح شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’ہیرے ، جواہرات وغیرہ سے بنے ہوئے زیورات کی تجارت مقصود نہ ہو تو ان میں زکوٰۃ نہیں ہے‘‘ 2’’شرعی طور پر زیور جائز ہو‘‘ چنانچہ شرعی طور پر حرام زیور میں تمام علمائے کرام کے ہاں زکوٰۃ واجب ہوگی؛ کیونکہ غیر شرعی زیور ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ کی ادائیگی ساقط نہیں ہو سکتی؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت کی رو سے یہ زیور ہی منع ہے، تو اس کا حکم استعمال میں نہ آنے والی چیز کا ہی ہوگا۔ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’جس شخص کے پاس سونے یا چاندی سے بنی ہوئی کوئی حرام

  • فونٹ سائز:

    ب ب