کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 121

کے کڑے پہنائے؟ ‘‘راوی کا کہنا ہے کہ: اس عورت سے ان کڑوں کو اتار کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا، اور کہنے لگی: ’’یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےلیے ‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے زیورات پر زکوٰۃ کی فرضیت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک عورت سے زیورات سے متعلق سوال کیا : ’’کیا زیورات میں زکوٰۃ ہے؟‘‘ تو آپ نے کہا:’’زیورات میں اگر دو سو درہم [چاندی کے نصاب] کے برابر ہوں تو اس کی زکوٰۃ دو‘‘،تو خاتون نے پوچھا: ’’میں کچھ یتیموں کو پال رہی ہوں تو کیا میں انہیں زکوٰۃ دے سکتی ہوں؟‘‘تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’جی !دے سکتی ہو ‘‘ چہارم: جمہور مالکی، شافعی اور حنبلی فقہائے کرام ’’سونے یا چاندی کے ذاتی استعمال کےلیے تیار شدہ جائز زیو‘‘کے بارے میں زکوٰۃ واجب ہونے کے قائل نہیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ:سونے چاندی پر زکوٰۃ واجب ہونےکے عام دلائل زیورات پر صادق نہیں آتے،کیونکہ احادیث میںمذکور لفظ ’’رقہ‘‘[چاندی] یا ’’اواقی‘‘ [چاندی کی مخصوص مقدار] زیورات پر نہیں بولے جاتے، بلکہ سونے [چاندی]کے سکوں پر بولے جاتے ہیں۔ چنانچہ ابو عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’ہمارے علم کے مطابق یہ دونوں الفاظ عرب کے کلام میں لوگوںمیں مروّجہ سکوں پر ہی بولے جاتے ہیں ، اور لفظ’’اواقی‘‘ درہموں پر بولا جاتا ہے، چنانچہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب