کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 122

چالیس درہموں کو’’اوقیہ‘‘ کہتے ہیں‘ اسی طرح امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’عربی زبان میں ’’وَرِق‘‘ان اہل عرب کی زبان میں جن کی زبان میں وحی نازل ہوئی ہے ، ایسے زیورات پر نہیں بولا جاتا جسے ذاتی استعمال کےلیےبنایا جاتا ہو‘‘ اسی طرح امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’زیورات پر زکوٰۃ واجب ہونے کے متعلق جن احادیث میں ’’ وَرِق ‘‘ اور’’رِقّہ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے انہیں دلیل بنانا درست نہیں ہے، کیونکہ صحاح اور قاموس وغیرہ لغت کی کتابوں میں یہ بات ثابت ہے کہ : ’’ وَرِق ‘‘ اور ’’رِقّہ‘‘ ڈھلائی شدہ سکوں کو کہتے ہیں، چنانچہ زیورات پر زکوٰۃ کی فرضیت کےلیے ان الفاظ کو دلیل بنانا درست نہیں ہے، بلکہ اپنے مفہوم مخالف کے باعث اس بات کی دلیل ہیں کہ زیورات میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی‘‘ اسی طرح آیت میں مذکور’’کنز‘‘ کا لفظ بھی ذاتی استعمال کے زیورات پر استعمال نہیں ہوتا، کیونکہ آیت میں لفظ [ وَلَا يُنفِقُونَهَا ]اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس سے مراد ایسا کنز ہے جو بطور مالیت و قیمت خرچ کیا جا سکے، اور یہ صرف سکوں میں ہی ہو سکتا ہے، نا کہ ذاتی استعمال کے زیورات میں۔ جبکہ زیورات پر زکوٰۃ واجب ہونے سے متعلق احادیث کے بارے میں انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ یہ تمام احادیث ضعیف ہیں۔ چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’زیورات میں زکوٰۃ فرض ہونے سے متعلق کوئی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے‘‘

  • فونٹ سائز:

    ب ب