کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 123

اور اسی طرح بدر الدین موصلی کہتے ہیں:’’ اس مسئلے سے متعلق کوئی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے‘‘ اور اسی طرح امام ابن جوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’یہ تمام احادیث ضعیف ہیں‘‘ جبکہ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’اس مسئلے سے متعلق دو طرفہ احادیث موجود ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی پایہ ثبوت تک نہیں پہنچتیں‘‘ امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’چنانچہ اس مسئلے سے متعلق کوئی حدیث بھی قابل حجت نہیں رہتی۔ اور صحابہ کرام اور ان کے اہل خانہ کے پاس زیورات موجود تھے، لیکن ایسی کوئی حدیث ثابت نہیں ہے کہ جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زکوٰۃ دینے کا حکم دیا ہو‘ سابق مفتی ٔ اعظم سعودیہ شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’جن لوگوں نے سونے یا چاندی کے ذاتی استعمال کےلیےتیار شدہ جائز زیور پر زکوٰۃ واجب قرار دی ہے ان کے مرفوع احادیث پر مشتمل کچھ صریح دلائل ہیں، جن میں سونے کے دو موٹے کڑوں والی حدیث، عائشہ رضی اللہ عنہا کی چاندی سے بنی انگوٹھیوں والی حدیث ، اور ام سلمہ کی سونے کے زیور والی حدیث شامل ہے۔ ان تمام احادیث کے بارے میں امام شافعی، احمد بن حنبل، ابو عبید، نسائی ، ترمذی، دارقطنی، بیہقی، اور ابن حزم رحمہم اللہ کی گفتگو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان احادیث کے صحیح ثابت نہ ہونے کی وجہ سے ان میں قوت نہیں ہے، اور یہ بھی یقینی امر ہے کہ ان اہل علم کی رائے کو ان متاخرین کی رائے پر فوقیت دی جائے گی جنہوں نے ان احادیث کو قوی سمجھنے کی کوشش کی ہے‘

  • فونٹ سائز:

    ب ب