کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 125

محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کی یتیم بچیوں کی کفالت کرتی تھیں، ان کا کچھ زیور بھی تھا لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتی تھیں۔ شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’یہ بات بالکل عیاں ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر سخت وعید بھی معلوم ہو کہ جہنم میں جانے کےلیے زکوٰۃ ادا نہ کرنا ہی کافی ہے، اور پھر بھی آپ اپنی زیر کفالت بچیوں کی زکوٰۃ ادا نہ کریں؟ مزید یہ بھی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ موقف مشہور ہے کہ یتیم بچوں کے مال میں بھی زکوٰۃ ہوگی‘‘ اسی طرح امام مالک نے موطامیں نافع سے بیان کیا ہے کہ : ’’عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے بیٹیوں اور لونڈیوں کو سونے کے زیورات پہناتے تھے، اور ان کے زیورات سے زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے‘ اسی طرح عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’میں نے جابر بن عبد اللہ سے زیورات میں زکوٰۃ سے متعلق پوچھا کیا ان میں زکوٰۃ ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: اگر ایک ہزار دینار کے برابر ہو؟ تو انہوں نے کہا: ایک ہزار دینار تو بہت زیادہ ہیں‘ اسی طرح علی بن سلیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے زیورات کے بارے میں پوچھا کیا اس میں زکوٰۃ ہے؟‘‘ تو انہوں نے کہا: ’’نہیں ہے‘‘ فاطمہ بنت منذر رحمہا اللہ سے مروی ہے کہ : ’’اسماء رضی اللہ عنہا زیورات کی زکوٰۃ نہیں دیا کرتی

  • فونٹ سائز:

    ب ب