کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 128

حزبيت ایک ناسور عبد المجید محمد حسین بلتستانی اسلام ایک کامل دین ہے جس میں بنی نوع انسان کےلیے ہر قسم کی رہنمائی موجودہے۔یہ ایسا دین ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے: ’’ قد ترکتکم علی البيضاء ليلھا کنھارھا‘‘ ترجمہ: میں تمہیں ایسے دین پر چھوڑ کر جارہاہوں جس کی راتیں بھی دن کی مانند روشن ہیں۔ فتنوں کے دور میں بھی اس پیارے دین نے اپنے ماننے والوں کی بہت عمدہ رہنمائی کی ہے۔جس دور سے ہم گزررہے ہیں اس میں امت کا شیرازہ بکھرچکاہے،جس کی بنیاد’’تحزب واختلاف وشقاق‘‘ ہے۔ ’’ حزبیت‘‘ ایک ایسا ناسور ہے جس نے اسلامی معاشرے کی بنیادیں ہلاکررکھ دی ہیں،ایک امت کہلانے والے ،ایک اللہ کو ماننے والے،ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک قرآن کو ماننے والے ،ایک قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنےوالےآج اس حزبیت کی نحوست کی وجہ سے آپس میں دست وگریبان ہیں، ایک دوسرے پر کفر کے فتوے داغے جارہےہیں،ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہےہیں،ہوناتویہ چاہیے تھاکہ یہ آپس میں شیروشکر ہوتے،ایک دوسرے کےغم خواربنتے ایک دوسرے کے کام آتے[اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ ]’’مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘۔[سورہ حجرات:10 ]اور[ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِکُمْ]’’سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو‘‘۔[سورہ انفال:1 ]کی عملی تصویرہوتے۔ہمارے سامنے ہمارے اسلاف کی مثالیں موجودہیں کہ وہ کس طرح ایک دوسرے کے غم خوار وغم گساربنے، مؤاخات کی ایسی مثال قائم کی کہ آج اس کی نظیرملنابھی بہت مشکل ہے،حالانکہ اسلام سے قبل وہ رنگ ونسل کے اعتبار سے ایک دوسرےسے بہت مختلف تھے،لیکن اس دین کی وجہ سے وہ سب ایک دوسرے کے بھائی بن گئےاور اس عظیم الشان اخوت کا ذکر اللہ پاک نے یوں کیاہے:

  • فونٹ سائز:

    ب ب