کتاب: سہہ ماہی مجلہ البیان کراچی - صفحہ 133

بس نہیں کیابلکہ کچھ اور قدم آگے بڑھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرکفرکافتوی لگاتے ہوئے ان سے قتال کو واجب جانااور کثیرتعدادمیں بےگناہ لوگوں کا بہیمانہ اندازمیں قتل عام کیا،ان رذیل قسم کے لوگوں نے امت کی وحدت کوپارہ پارہ کرنے میں خوب کردار اداکیا۔ مضمون کی ابتدامیں وعید والی کچھ احادیث کاذکرہواجس میں امت کے افتراق واختلاف کاذکرتھااب اس سلسلے میںمزید نصوص ملاحظہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’افترقت الیھود علی احدی وسبعین فرقۃ وافترقت النصاری علی ثنتین وسبعین فرقۃ وتفترق ھذہ الامۃ علی ثلاث وسبعین فرقۃ‘ ’’ یہودی اکہتر فرقوں میں بٹ گئے اور نصاریٰ بہتر فرقوں میں بٹ گئے،اور یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائےگی‘‘۔ اس سے یہ معلوم ہواکہ سابقہ امتوں کی طرح یہ امت بھی انتشاروافتراق کا شکارہوگی،اوراس پر وعید بھی کرتےہوئے فرمایاکہ جو افتراق کا سبب بنے امت کی وحدت کو پارہ کرنے کے درپے ہو اسے قتل کردیاجائے،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فمن أراد أن يفرق أمر ھذہ الأمۃ وھی جميع فاضربوہ بالسيف کائنا من کان‘‘ ’’جواس امت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کاسوچے ا س کی گردن اڑادو چاہے وہ کوئی بھی کیوں نہ ہو۔‘‘ اس سے واضح ہواکہ حزبیت کی نحوست سےیہ امت ضرور شکارہوگی جہاں اس چیز سے آگاہ کیا وہاںاس حزبیت سے بچنے کی سختی کے ساتھ تاکید بھی کی ہے،خصوصا ایسے وقت میں جب فتنے سر اٹھارہے ہوں اور لوگ ان فتنوں کی زد میں آرہےہوں تو ایسے حالات میں ایک مؤمن بندےکا کرداریہ ہوناچاہیے کہ وہ اپنی جان وایمان کی سلامتی کےلیےاپنے آپ کو الگ تھلگ کردے۔بعض

  • فونٹ سائز:

    ب ب